امریکا نے شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا

0
10
امریکا نے شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا

امریکی حکومت نے شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے باضابطہ طور پر نکال دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ فیصلہ پیر سے نافذ العمل ہوگیا، جس کے بعد شام کے عالمی مالیاتی نظام سے دوبارہ جڑنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق شام کی نئی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور عالمی دہشت گرد سرگرمیوں سے خود کو دور رکھنے کی یقین دہانیوں کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے بین الاقوامی بینکاری، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے راستہ مزید ہموار ہوگا۔ شام طویل خانہ جنگی کے بعد اپنے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔

امریکا نے شام کو 1979 میں اس فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں شام کو امریکی امداد، بعض دفاعی و تجارتی سامان اور مالی لین دین سمیت متعدد شعبوں میں سخت پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا رہا۔

دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی۔ واشنگٹن کے مطابق نئی شامی حکومت نے داعش کے خلاف تعاون سمیت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بعض اہم اقدامات کیے ہیں۔

تازہ فیصلے کے ساتھ نصرہ فرنٹ کو بھی خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم سابق شامی حکومت سے وابستہ بعض افراد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار عناصر، داعش اور القاعدہ سے منسلک گروہوں اور دیگر مخصوص فریقوں پر امریکی پابندیاں برقرار ہیں۔

امریکی حکومت نے اس سے قبل شام پر عائد متعدد وسیع اقتصادی پابندیاں بھی ختم کی تھیں۔ تاہم امریکی مالیاتی اداروں کے لیے اب بھی ضروری ہے کہ شام سے متعلق لین دین میں پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا ادارے شامل نہ ہوں۔

ماہرین کے مطابق دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے اخراج شام کے لیے ایک اہم اقتصادی پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے بین الاقوامی بینکوں اور کمپنیوں کے لیے شام کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے کا قانونی خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

شامی حکومت کو توقع ہے کہ اس فیصلے کے بعد عالمی بینکاری نظام میں دوبارہ شمولیت، بیرونی سرمایہ کاری اور جنگ سے تباہ ہونے والے ملک کی تعمیر نو کے عمل میں تیزی آئے گی۔

Leave a reply