
دنیا تیزی سے ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی صرف سہولت کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ انسانی جذبات، عادات اور ذہنی کیفیت کو بھی سمجھنے لگی ہے۔ جو چیزیں کبھی سائنس فکشن فلموں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، اب حقیقت بنتی جا رہی ہیں۔
اسی تناظر میں ایک نئی اصطلاح ”ڈیجیٹل فینوٹائپنگ“ تیزی سے توجہ حاصل کر رہی ہے، جس کے تحت اسمارٹ فونز انسان کی ذہنی حالت، خصوصاً ڈپریشن، کی ابتدائی علامات کا اندازہ لگانے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل فینوٹائپنگ ایک جدید طریقہ ہے جس میں اسمارٹ فونز، اسمارٹ واچز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے ذریعے انسانی رویوں، حرکات اور روزمرہ عادات کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران فون کے سینسرز، لوکیشن ہسٹری، اسکرین ٹائم، ٹائپنگ انداز، نیند کے معمولات اور سماجی سرگرمیوں سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہیں تاکہ ایک ایسا ”ڈیجیٹل خاکہ“ تیار کیا جا سکے جو کسی فرد کی ذہنی کیفیت کی عکاسی کرے۔
تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کا شکار افراد عام طور پر اپنے فون پر زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے اور سماجی سرگرمیوں میں کمی دیکھی جاتی ہے۔ اسی طرح رات گئے تک اسکرین استعمال کرنا، فون کالز میں کمی یا ٹائپنگ کے انداز میں تبدیلی بھی ذہنی دباؤ کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نفسیات کے مطابق جدید اسمارٹ فونز اب صرف رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ انسانی رویوں کے خاموش مشاہدہ کار بن چکے ہیں۔ ہر کلک، ہر سوائپ اور ہر پیغام ایک ڈیجیٹل نشان کی صورت میں محفوظ ہوتا ہے، جو وقت کے ساتھ کسی فرد کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
متعدد نفسیاتی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیجیٹل رویوں کا تجزیہ ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج کے نظام میں اہم کردار ادا کرے گی، جہاں علامات شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی متاثرہ افراد کو مدد فراہم کرنا ممکن ہو سکے گا۔
تاہم ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے پرائیویسی اور ذاتی آزادی کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر انسانی جذبات، عادات اور ذہنی کیفیت سے متعلق معلومات مسلسل جمع کی جاتی رہیں تو ان کے غلط استعمال کے امکانات بھی موجود رہیں گے۔
ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے اس دور میں یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ مستقبل کے اسمارٹ فون صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہیں گے بلکہ انسانی ذہنی اور جذباتی کیفیت کے خاموش تجزیہ کار بھی بن سکتے ہیں۔









