‘کاکروچ’ سے شروع ہونے والا طوفان! ایک نوجوان کیسے بن گیا حکومت مخالف تحریک کا چہرہ؟

بھارت میں بے روزگاری، امتحانی نظام میں شفافیت اور حکومتی جوابدہی سے متعلق مطالبات پر جاری نوجوانوں کی احتجاجی تحریک میں 30 سالہ ابھیجیت دیپکے ایک نمایاں چہرے کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی ایک مختصر سوشل میڈیا پوسٹ نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک وسیع عوامی مہم کی شکل اختیار کر لی۔
رپورٹس کے مطابق، مئی میں دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طنزیہ پوسٹ شیئر کی، جس میں “کاکروچ” کا حوالہ دیا گیا تھا۔ یہ ردعمل سپریم کورٹ کے جج سوریہ کانت کے ایک متنازع بیان کے تناظر میں سامنے آیا، جس پر بعد میں وضاحت بھی دی گئی۔ اس پوسٹ کے بعد “کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک طنزیہ آن لائن پلیٹ فارم وجود میں آیا، جو نوجوانوں کے احتجاج کی علامت بن گیا۔
اس دوران نئی دہلی سمیت مختلف بھارتی شہروں میں طلبہ اور نوجوانوں نے مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے میڈیکل داخلہ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک ہونے، بے روزگاری اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات پیش کیے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔
اگرچہ اس تحریک میں کئی افراد سرگرم ہیں، تاہم ابھیجیت دیپکے کو اس کا نمایاں نمائندہ تصور کیا جا رہا ہے۔ وہ امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، لیکن احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے بھارت واپس آئے اور دہلی میں مظاہروں میں شریک ہوئے۔ وہ اپنے خطابات میں مظاہرین پر زور دیتے ہیں کہ احتجاج پرامن رکھا جائے اور مطالبات آئینی طریقے سے پیش کیے جائیں۔
تحریک کے دوران انہیں حمایت کے ساتھ تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایک احتجاجی تقریب میں ایک خاتون نے ان پر نیلی سیاہی پھینک دی اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام عائد کیا۔ دیپکے نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس واقعے پر اپنا ردعمل دیا۔
ابھیجیت دیپکے کا تعلق ریاست مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد سے ہے اور وہ دلت برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کا سماجی پس منظر اور معاشرتی تجربات ان کی سیاسی سوچ پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔
انہوں نے 2020 میں عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم میں کام کیا، جہاں سیاسی ابلاغ، طنز اور ڈیجیٹل مہمات کا تجربہ حاصل کیا۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہوگئے، تاہم بھارتی سیاست اور سماجی مسائل پر اپنی دلچسپی برقرار رکھی۔
دیپکے کا کہنا ہے کہ انہیں خود بھی توقع نہیں تھی کہ ان کی ایک مختصر سوشل میڈیا پوسٹ اتنی بڑی عوامی تحریک کی بنیاد بن جائے گی۔ ان کے مطابق اس مہم کا مقصد نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور انصاف سے متعلق مسائل کو قومی سیاسی مباحثے کا حصہ بنانا ہے، اور وہ اس مقصد کے حصول تک احتجاج جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔









