GPS مداخلت: معمولی خلل یا بڑا سکیورٹی خطرہ؟

0
29
GPS مداخلت: معمولی خلل یا بڑا سکیورٹی خطرہ؟

سیالکوٹ: پاکستان آنے والی ایک بین الاقوامی پرواز فلائٹ ٹریکنگ سسٹم پر غلطی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے جموں ایئرپورٹ پر لینڈ کرتی دکھائی دی، جس کے بعد خطے میں GPS سگنلز میں ممکنہ مداخلت اور فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کی درستگی پر بحث شروع ہوگئی۔
اطلاعات کے مطابق دوحا سے سیالکوٹ آنے والی قطر ایئرویز کی پرواز QR630 اپنی معمول کی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی، تاہم لینڈنگ کے مرحلے کے دوران فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ پر اس کی پوزیشن جموں ایئرپورٹ کے قریب ظاہر ہونے لگی۔ دستیاب معلومات کے مطابق پرواز نے معمول کے مطابق سیالکوٹ میں لینڈ کیا تھا۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی صورتحال GPS spoofing، سگنل میں خلل، پوزیشننگ ڈیٹا کے اچانک تبدیل ہونے یا ADS-B ڈیٹا میں خرابی کے باعث پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں آن لائن فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم طیارے کی اصل پوزیشن کے بجائے غلط جغرافیائی مقام دکھا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال جون میں بھی سیالکوٹ آنے والی بعض پروازوں کے ساتھ اسی نوعیت کے واقعات سامنے آئے تھے، جہاں طیارے حقیقت میں سیالکوٹ ایئرپورٹ پر اترے لیکن ٹریکنگ ڈیٹا میں انہیں جموں کی جانب منتقل یا وہاں لینڈ کرتا ہوا دکھایا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ اور جموں کے درمیان نسبتاً کم فاصلہ بھی اس طرح کے لوکیشن گلچ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ جب طیارے کے سگنلز سے حاصل ہونے والی پوزیشن میں معمولی یا غیر معمولی تبدیلی آتی ہے تو تھرڈ پارٹی ٹریکنگ سسٹم غلط مقام کو طیارے کی موجودہ پوزیشن تصور کرسکتا ہے۔
GPS مداخلت کتنی خطرناک ہے؟
ماہرین کے مطابق کسی فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ پر غلط مقام ظاہر ہونا لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ طیارے کے اپنے نیوی گیشن سسٹم میں خرابی پیدا ہوگئی تھی۔ کمرشل طیاروں میں نیوی گیشن کے لیے متعدد ذرائع اور طریقے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ پبلک فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم عموماً مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔
تاہم حقیقی GPS jamming یا spoofing ایک سنجیدہ ایوی ایشن خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر کسی طیارے کے نیوی گیشن سسٹم کو جعلی یا متاثرہ سیٹلائٹ سگنلز موصول ہوں تو پوزیشن کے تعین میں غلطی پیدا ہوسکتی ہے۔ اسی لیے پائلٹس اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے پاس ایسے حالات میں متبادل نیوی گیشن ذرائع اور طریقہ کار موجود ہوتے ہیں۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق موجودہ واقعات میں آن لائن ٹریکنگ پر نظر آنے والی غلط لوکیشن کو طیارے کی حقیقی پرواز یا لینڈنگ کا حتمی ثبوت تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ اصل صورتحال جاننے کے لیے ایئرپورٹ، ایئرلائن اور متعلقہ ایوی ایشن حکام کے تصدیق شدہ ڈیٹا کو ترجیح دی جاتی ہے۔

Leave a reply