کشمیر میں کتابوں کا قتلِ عام؟ کیا تاریخ کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے؟

کشمیر میں کتابوں کا قتلِ عام؟ کیا تاریخ کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے؟

تحریر:نور فاطمہ

اگر ایک حکومت کتابوں سے ڈرنے لگے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطرہ کتابوں میں ہے یا خیالات میں؟
بھارت میں تاریخ بدلنے کا عمل اب صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں رہا۔ پہلے مغل دور کو نصاب سے کم کیا گیا، پھر ٹیپو سلطان جیسے کرداروں کی نئی تشریح سامنے آئی، شہروں اور تاریخی مقامات کے نام بدلے گئے، اور اب بظاہر اگلا مرحلہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی اجتماعی یادداشت کو ازسرِ نو ترتیب دینے کا دکھائی دیتا ہے۔
پانچ اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہوئی، لیکن اب بحث صرف سیاسی اختیارات کی نہیں بلکہ شناخت، تاریخ اور علم تک جا پہنچی ہے۔
کتابیں بھی “خطرہ” بن گئیں؟
گزشتہ برس متعدد کتابوں پر پابندی لگائی گئی۔ ان میں تاریخ، سیاست اور کشمیر پر لکھی گئی ایسی تصانیف بھی شامل تھیں جنہیں بھارت کے دوسرے حصوں میں شائع اور فروخت کیا جاتا رہا، مگر جموں و کشمیر میں ان کا رکھنا یا پڑھنا ممنوع قرار دیا گیا۔
اب تازہ حکومتی ہدایات کے مطابق تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور دیگر مراکز سے ایسا مواد ہٹانے کا کہا گیا ہے جسے حکام “گمراہ کن”، “اشتعال انگیز” یا قومی یکجہتی کے خلاف تصور کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ایسے الفاظ کی تشریح کون کرے گا؟
اصل جنگ بندوق کی نہیں، بیانیے کی؟
ماہرین کے مطابق شناخت کو کمزور کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ماضی کے متبادل بیانیوں تک رسائی محدود کر دی جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر صرف سرکاری طور پر منظور شدہ تاریخ ہی دستیاب ہوگی تو آنے والی نسلیں ایک ہی زاویۂ نظر سے واقعات کو جانیں گی۔
حالیہ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب جموں و کشمیر کی معروف شخصیات پر مبنی ایک کتاب پر اعتراض کیا گیا، کیونکہ اس میں بعض ایسی شخصیات کا ذکر تھا جنہیں حکومت متنازع سمجھتی ہے۔ بعد ازاں اسی موضوع پر ایک متبادل کتاب سرکاری سطح پر لائبریریوں کو فراہم کی گئی۔
خوف صرف مصنفین کو نہیں…
کشمیر کے کئی صحافیوں اور کتاب فروشوں کے مطابق اب لوگوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ کون سی کتاب کب قابلِ اعتراض قرار دے دی جائے۔ بعض افراد نے اپنی ذاتی لائبریریوں سے بھی حساس سمجھی جانے والی کتابیں ہٹا دی ہیں۔
ناقدین کے مطابق اگر لائبریرین یا کتاب فروش بھی قانونی کارروائی کے خوف میں مبتلا ہوں تو نئی کتابیں منگوانے اور مختلف نقطۂ نظر محفوظ رکھنے کا رجحان متاثر ہو سکتا ہے۔
کیا تاریخ سرکاری حکم سے بدل جاتی ہے؟
یہ سوال صرف کشمیر یا بھارت تک محدود نہیں۔ دنیا کی مختلف ریاستوں میں تاریخ، نصاب اور قومی شناخت پر اختلافات دیکھنے کو ملتے رہے ہیں۔ حکومتیں اکثر اپنے قومی بیانیے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ ناقدین علمی آزادی، تنوعِ رائے اور آزاد تحقیق کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ کون سی کتاب رکھی جائے اور کون سی ہٹائی جائے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک معاشرہ مختلف آراء سننے کی صلاحیت کھو دے تو کیا وہ اپنی تاریخ کو بہتر سمجھے گا یا صرف ایک منظور شدہ روایت کو دہراتا رہے گا؟
کیونکہ کتابیں جلانے یا ہٹانے سے خیالات ہمیشہ ختم نہیں ہوتے، لیکن سوال ضرور بڑھ جاتے ہیں۔

Leave a reply