میکڈونلڈز کا بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا منصوبہ، اربوں ڈالر خرچ کرنے کا اعلان

عالمی فاسٹ فوڈ برانڈ میکڈونلڈز نے صارفین کی توجہ دوبارہ حاصل کرنے اور اپنے کاروباری آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کردیا ہے۔
کمپنی کے مطابق ’نیپکسٹ‘ نامی اس منصوبے کے تحت 2036 تک تقریباً 8.5 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ اس سرمایہ کاری کا ایک اہم حصہ ریسٹورنٹس کی تزئین و آرائش، فرنچائز مالکان کی معاونت، ملازمین کی تربیت اور مینیو میں نئی مصنوعات متعارف کرانے پر صرف ہوگا۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 5 ارب ڈالر ساڑھے تین سال کے عرصے میں خرچ کیے جائیں گے، جس میں فرنچائز مالکان کو کرایوں اور دیگر مالی معاملات میں معاونت بھی شامل ہے۔
میکڈونلڈز کو حالیہ عرصے میں فروخت میں نمایاں کمی کا سامنا رہا ہے، جس کے بعد کمپنی نے صارفین کے تجربے اور اپنی مصنوعات کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق سروس کے معیار اور رعایتی پیشکشوں سے متعلق حکمت عملی میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی۔
نئے منصوبے کے تحت کئی ریسٹورنٹس میں بیٹھنے کی گنجائش بڑھانے، بچوں کے لیے کھیلنے کی جگہوں کو بہتر بنانے اور کچن میں مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا منصوبہ ہے، تاکہ آرڈرز کی تیاری اور فراہمی کا عمل تیز کیا جاسکے۔
مینیو میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کمپنی صحت اور زیادہ پروٹین والی خوراک میں بڑھتی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے برگر باؤلز، چکن باؤلز اور گرلڈ چکن سے تیار کردہ مزید آئٹمز متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
میکڈونلڈز کی امریکی قیادت کے مطابق صارفین ایسی غذاؤں میں دلچسپی لے رہے ہیں جو زیادہ پروٹین فراہم کریں اور انہیں دیر تک سیر رکھنے میں مدد دیں۔
کمپنی نے ملازمین کی تربیت کے لیے بھی نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زائد ملازمین کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیا جائے گا، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کسٹمر سروس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
میکڈونلڈز کے حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ صارفین کو تیز، مستقل اور بہتر سروس فراہم کرنا بھی کمپنی کی ترجیحات میں شامل رہے گا۔









