آخر یہ نظام بدلے گا کب؟

پاکستان کا سب سے بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں، بلکہ اصلاحات کے نظام کی ناکامی ہے۔ ہم نے دہائیوں سے تبدیلی کے نعرے لگائے، کمیشن بنائے، رپورٹیں تیار کیں، اربوں روپے خرچ کیے، مگر نتیجہ وہی رہا: ادارے کمزور، عوام مایوس اور حکمرانی کا نظام پہلے سے زیادہ پیچیدہ۔
اصلاحات ہمارے لیے ایک ایسا لفظ بن چکا ہے جسے ہر حکومت اپنی تقریروں میں استعمال کرتی ہے، مگر عملی میدان میں اس کا مطلب اکثر صرف نئے اعلانات، نئی کمیٹیاں اور نئی فائلیں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اتنے برسوں میں اتنے کمیشن بنے، اتنی سفارشات سامنے آئیں تو پھر ملک کے بنیادی شعبے آج بھی بحران کا شکار کیوں ہیں؟
تعلیم، صحت، معیشت، عدلیہ، پولیس، بیوروکریسی، انتخابات، پارلیمنٹ اور گورننس—کون سا شعبہ ہے جہاں ہم نے عالمی معیار کے مطابق مستقل بہتری حاصل کی ہو؟ عالمی درجہ بندیوں میں ہماری پوزیشن ہمیں بار بار یہ یاد دلاتی ہے کہ مسئلہ صرف حکومتوں کی تبدیلی کا نہیں بلکہ پورے حکمرانی کے ڈھانچے کا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر اصلاحات کا سفر اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے طاقتور افراد کو مضبوط کرنے کے گرد گھومتا رہا ہے۔ طاقتور طبقے کو خوف یہ رہتا ہے کہ اگر ادارے واقعی آزاد ہوگئے، قانون سب کے لیے برابر ہوگیا اور نظام میرٹ پر چلنے لگا تو ان کے مفادات متاثر ہوں گے۔ یہی خوف اصلاحات کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟
عالمی ادارے، ماہرین معیشت، امور خارجہ کے ماہرین اور ملکی دانشور مسلسل تجاویز دیتے رہے ہیں کہ پاکستان کس طرح اپنے نظام کو بہتر بنا سکتا ہے۔ مگر مسئلہ تجاویز کی کمی نہیں، سیاسی ارادے کی کمی ہے۔ کئی ماہرین کا تجربہ یہی رہا کہ جب انہوں نے بہتری کے لیے مشورے دیے تو انہیں یہ احساس ہوا کہ نظام کو حقیقتاً بدلنے کی خواہش رکھنے والوں کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔
اگر آج ایک غیر جانبدار کمیشن بنایا جائے اور صرف چند بڑے شعبوں کا جائزہ لیا جائے—انتخابات، سیاسی نظام، معیشت، عدلیہ، بیوروکریسی، پولیس، تعلیم اور صحت—اور یہ پوچھا جائے کہ گزشتہ بیس برسوں میں کتنے وسائل خرچ ہوئے اور اس کے مقابلے میں عوام کی زندگی میں کتنی بہتری آئی، تو شاید ایک ایسی رپورٹ سامنے آئے جو پورے نظام کا آئینہ بن جائے۔
وہ رپورٹ شاید یہ بتا دے کہ اصلاحات کے نام پر چلنے والا سیاسی کاروبار عوام کے لیے کتنا فائدہ مند تھا اور طاقتور حلقوں کے لیے کتنا مفید۔
پاکستانی نظام کا ایک بڑا المیہ جوابدہی کا فقدان ہے۔ نہ حکومتیں اپنی اصلاحاتی ناکامیوں کا حساب دیتی ہیں، نہ ادارے اپنی کارکردگی کی وضاحت کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ناکامی بھی یہاں ایک معمول بن چکی ہے۔
مسئلہ صرف سیاسی حکومتوں کا نہیں۔ سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی بار بار تبدیلی، اداروں میں مداخلت اور طاقت کے مراکز کے درمیان کشمکش نے بھی اصلاحات کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جس ملک میں حکومتوں کو مکمل مدت تک کام کرنے کا موقع نہ ملے وہاں طویل المدتی اصلاحات کیسے کامیاب ہوسکتی ہیں؟
دو دو سال بعد حکومتیں بدلنے والے نظام میں تعلیم، صحت، عدلیہ اور معیشت جیسے شعبوں کی بنیادیں مضبوط نہیں کی جاسکتیں۔ اصلاحات کو وقت، تسلسل اور سیاسی استحکام درکار ہوتا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ ہمارا بھاری بھرکم انتظامی ڈھانچہ ہے، جس کا بڑا حصہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ عہدے، تقرریاں اور ادارہ جاتی فیصلے اکثر میرٹ کے بجائے طاقت کے توازن کا حصہ بن جاتے ہیں، جس کا بوجھ آخرکار قومی خزانے اور عام شہری دونوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے اپنے نظام کو تبدیل کیا، اداروں کو مضبوط بنایا اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے ترقی حاصل کی۔ مگر پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم تجربات سے سیکھنے کے بجائے اپنی ناکامیوں کو دہراتے رہتے ہیں۔ اصلاحاتی کمیشن بنتے ہیں، رپورٹیں تیار ہوتی ہیں اور پھر وہ فائلوں میں دفن ہوجاتی ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صرف حکومتیں ذمہ دار ہیں؟ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اندر جمہوریت، شفافیت اور میرٹ کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ جو جماعتیں خود اندرونی جمہوریت سے محروم ہوں وہ ریاستی سطح پر مضبوط جمہوری نظام کیسے قائم کرسکتی ہیں؟
موروثی سیاست کے سہارے جمہوریت کے بڑے دعوے کرنا آسان ہے، مگر جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت اداروں، قانون، جوابدہی اور عوامی شمولیت کا نام ہے۔
بدقسمتی سے سیاسی کارکنوں کی تنقید کو برداشت نہیں کیا جاتا، اہل دانش کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جبکہ ہر دور میں طاقتور حکمرانوں کے ساتھ کھڑا ہونے والا چاپلوس طبقہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ ایسے ماحول میں اصلاحات ایک قومی ضرورت کے بجائے سیاسی نعرہ بن کر رہ جاتی ہیں۔
پاکستان کو حقیقی اصلاحات کے لیے سب سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ریاست افراد کے لیے ہے یا اداروں کے لیے؟ نظام طاقتور طبقات کے تحفظ کے لیے چلنا ہے یا عام شہری کے حقوق کے لیے؟
کیونکہ جس دن ادارے مضبوط ہوگئے، قانون سب کے لیے برابر ہوگیا اور حکومت کا مقصد عوامی خدمت بن گیا، اسی دن پاکستان کی اصل ترقی کا آغاز ہوگا۔
ورنہ اصلاحات کے نام پر کمیشن بنتے رہیں گے، رپورٹیں لکھی جاتی رہیں گی، اربوں روپے خرچ ہوتے رہیں گے، اور عام آدمی اسی سوال کے ساتھ کھڑا رہے گا:








