قرض، مہنگائی اور بحران؛ پاکستان بار بار اسی دائرے میں کیوں پھنس جاتا ہے؟

قرض، مہنگائی اور بحران؛ پاکستان بار بار اسی دائرے میں کیوں پھنس جاتا ہے؟

تحریر:محمد رشید

اسلام آباد: پاکستان کو اس وقت مہنگائی، مالیاتی خسارے، بیرونی قرضوں، محدود زرمبادلہ کے ذخائر اور کمزور معاشی نظم و نسق سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال صرف قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات عوام کی قوت خرید، کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی تحفظ تک پھیل چکے ہیں۔
پاکستان میں بیرونی قرضوں پر انحصار کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ قیام پاکستان کے بعد محدود مالی وسائل، کمزور صنعتی ڈھانچے اور درآمدات پر انحصار کے باعث بیرونی وسائل کی ضرورت پیدا ہوئی، تاہم وقت کے ساتھ قرض کا حصول معاشی بحرانوں سے نمٹنے کا ایک مستقل ذریعہ بنتا گیا۔
مختلف ادوار میں حکومتوں نے مالیاتی خسارے، ادائیگیوں کے توازن اور زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بیرونی قرضے حاصل کیے، لیکن برآمدات میں پائیدار اضافے، ٹیکس نظام کی بنیادی اصلاح، توانائی کے شعبے کی بہتری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے جیسے اقدامات مطلوبہ تسلسل سے آگے نہ بڑھ سکے۔
اس صورتحال میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کے لیے بارہا اہم مالیاتی شراکت دار کے طور پر سامنے آیا۔ آئی ایم ایف پروگراموں کا مقصد مالیاتی استحکام اور معاشی اصلاحات کے ذریعے بحران سے نکلنے میں مدد فراہم کرنا ہوتا ہے، تاہم ان پروگراموں کے تحت ٹیکس وصولی میں اضافہ، سبسڈی میں کمی، توانائی کی قیمتوں میں ردوبدل اور مالیاتی نظم و ضبط جیسے اقدامات مختصر مدت میں عوام کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کے مسائل کی ذمہ داری صرف بیرونی قرضوں یا آئی ایم ایف پر عائد کرنا درست نہیں۔ ملکی معیشت کو کمزور کرنے والے عوامل میں پالیسیوں کا عدم تسلسل، سیاسی بے یقینی، ٹیکس نیٹ کی محدودیت، غیر دستاویزی معیشت، کمزور برآمدی بنیاد، توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ اور ادارہ جاتی کمزوریاں بھی شامل ہیں۔
مہنگائی کے معاملے میں بھی عالمی عوامل کے ساتھ ساتھ داخلی مسائل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی، درآمدی اشیا پر انحصار، سپلائی چین کے مسائل، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور بعض شعبوں میں مسابقت کی کمی کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔
پاکستان کا ٹیکس نظام بھی طویل عرصے سے اصلاحات کا متقاضی ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں پر زیادہ انحصار کے باعث کم آمدنی والے افراد بھی نسبتاً زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں، جبکہ معیشت کے کئی شعبے مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں۔ ماہرین کے نزدیک ایک مؤثر اور منصفانہ ٹیکس نظام معاشی استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی اخراجات، غیر ضروری مراعات، انتظامی اخراجات اور مالیاتی نظم و ضبط بھی عوامی بحث کا اہم موضوع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریاست شہریوں سے معاشی قربانی کا مطالبہ کرتی ہے تو حکومتی سطح پر اخراجات میں شفافیت، سادگی اور مؤثر مالی نظم و ضبط بھی یقینی بنانا ہوگا۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنا بذاتِ خود معاشی ناکامی نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک بار بار ایسے مالی بحران کا شکار ہو جس سے نکلنے کے لیے بیرونی قرضوں کی ضرورت پیش آئے۔ طویل مدت میں معاشی استحکام کے لیے قرضوں کے بجائے پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، انسانی وسائل اور مؤثر حکمرانی کو معیشت کی بنیاد بنانا ضروری ہے۔
پاکستان کے پاس زرعی وسائل، معدنی ذخائر، نوجوان افرادی قوت اور خطے میں اہم جغرافیائی حیثیت جیسے کئی مواقع موجود ہیں۔ اگر ان وسائل کو بہتر پالیسی، شفاف حکمرانی، سیاسی تسلسل اور طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو ملک نہ صرف موجودہ معاشی دباؤ کم کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں قرضوں اور مالیاتی بحرانوں کے بار بار آنے والے چکر سے بھی نکلنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

Leave a reply