یمن پھر بارود کے ڈھیر پر: حوثی، سعودی عرب اور ایران کی خطرناک شطرنج

یمن پھر بارود کے ڈھیر پر: حوثی، سعودی عرب اور ایران کی خطرناک شطرنج

تحریر:نور فاطمہ

باب المندب بند ہوا تو صرف ایک سمندری راستہ بند نہیں ہوا، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا ایک نیا دروازہ کھل گیا۔

یمن ایک بار پھر جلنے کے قریب ہے۔

وہی یمن، جہاں ایک دہائی قبل شروع ہونے والی جنگ نے لاکھوں زندگیوں کو اجاڑ دیا، معیشت کو زمین بوس کیا اور دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کو جنم دیا۔ اب خدشہ ہے کہ خاموش دکھائی دینے والی جنگ کے نیچے دبی چنگاریاں دوبارہ شعلوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

اور اس بار معاملہ صرف یمن تک محدود نہیں۔

بحیرۂ احمر، باب المندب، سعودی عرب، ایران، امریکا اور اسرائیل—سب ایک ایسی شطرنج پر کھڑے ہیں جہاں ایک غلط چال پورے خطے کو ہلا سکتی ہے۔

باب المندب: جہاں سے جنگ سمندر تک پہنچتی ہے

باب المندب محض ایک سمندری راستہ نہیں۔ یہ عالمی تجارت کی اہم شہ رگوں میں شمار ہوتا ہے۔

اگر یہاں جہاز رانی غیر محفوظ ہو جائے تو اس کے اثرات یمن کی سرحدوں سے کہیں دور تک محسوس ہوتے ہیں۔ تیل، تجارت، شپنگ کے اخراجات اور عالمی سپلائی چین—سب دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

اسی لیے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں کارروائیاں محض ایک مقامی جنگی حکمتِ عملی نہیں سمجھی جاتیں۔ یہ ایسا دباؤ ہے جو ایک ہی وقت میں کئی طاقتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں یمن کی جنگ، ایران اور سعودی عرب کی علاقائی کشمکش سے جڑ جاتی ہے۔

حوثی آخر چاہتے کیا ہیں؟

حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، یمن کے ایک بڑے حصے پر اپنا کنٹرول قائم رکھے ہوئے ہیں۔

2015 میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کا مقصد حوثیوں کو پیچھے دھکیلنا تھا، لیکن برسوں کی جنگ کے باوجود انہیں فیصلہ کن طور پر شکست نہیں دی جا سکی۔

پھر جنگ بندیوں اور مذاکرات کا دور آیا۔

ایسا لگا جیسے یمن شاید دوبارہ امن کی طرف بڑھ رہا ہے۔

لیکن مشرقِ وسطیٰ میں امن اکثر ایک کمزور شیشے کی طرح ہوتا ہے—ایک جھٹکا آتا ہے اور سب کچھ دوبارہ ٹوٹ جاتا ہے۔

حوثیوں کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ موجودہ علاقائی بحران کو اپنے سیاسی اور عسکری مفادات آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ وقت ان کے حق میں ہے؟

اگر جواب ہاں ہے تو پھر آنے والے دن انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے لیے سب سے بڑا مسئلہ

سعودی عرب پچھلی ایک دہائی میں جنگ سے نکل کر معیشت، سرمایہ کاری اور اپنے مستقبل کے بڑے منصوبوں پر توجہ دینا چاہتا رہا ہے۔

وہ یمن کی ایک اور طویل جنگ کا متحمل ہونا نہیں چاہتا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر حوثیوں کو زیادہ طاقتور ہونے دیا جائے تو سعودی عرب کی جنوبی سرحد، تیل کی تنصیبات اور سمندری تجارت مستقل دباؤ میں آ سکتی ہے۔

اور اگر ریاض دوبارہ بھرپور فوجی کارروائی کرتا ہے تو جنگ ایک بار پھر طویل، مہنگی اور غیر متوقع شکل اختیار کر سکتی ہے۔

یعنی سعودی عرب کے سامنے دونوں راستے آسان نہیں۔

جنگ کرے تو خطرہ، رعایت دے تو خطرہ۔

یہی اصل الجھن ہے۔

اور پردے کے پیچھے ایران؟

یمن کی کہانی کو ایران کے بغیر سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔

حوثیوں کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور ایران سے حاصل ہونے والی عسکری و تکنیکی مدد کے بارے میں برسوں سے بحث جاری ہے۔ تہران خطے میں مختلف مسلح گروہوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کرتا رہا ہے۔

حوثی اسی وسیع تر علاقائی مقابلے میں ایک اہم مہر سمجھے جاتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال بھی ہے:

کیا حوثی صرف ایران کے اشاروں پر چلتے ہیں، یا اب ان کے اپنے علاقائی مفادات اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ وہ تہران کے ساتھ مل کر مگر اپنی مرضی سے کھیل سکتے ہیں؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ حوثی اب وہ گروہ نہیں رہے جو ایک دہائی قبل تھے۔

وہ جنگ لڑ چکے ہیں، علاقے پر قبضہ برقرار رکھا ہے، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں استعمال کی ہیں اور ایک ایسی طاقت بن چکے ہیں جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

سعودی، ایرانی مفاہمت کا کیا ہوا؟

2023 میں چین کی ثالثی سے سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔

یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی گئی۔

لیکن سفارتی تعلقات بحال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تمام علاقائی اختلافات ختم ہو گئے۔

یمن اسی پیچیدہ تعلقات کا امتحان بن سکتا ہے۔

اگر سعودی عرب یہ سمجھتا ہے کہ حوثی ایران کی پشت پناہی سے اس کی سلامتی کے لیے دوبارہ بڑا خطرہ بن رہے ہیں، تو ریاض اور تہران کے درمیان پیدا ہونے والی سفارتی قربت بھی شدید دباؤ میں آ سکتی ہے۔

اصل خوف: ایک جنگ، کئی محاذ

خطرہ صرف یہ نہیں کہ یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے۔

اصل خوف یہ ہے کہ یمن کی جنگ ایک بڑے علاقائی تنازعے کا حصہ بن جائے۔

بحیرۂ احمر میں حملے ہوں، خلیج میں کشیدگی بڑھے، سعودی عرب کو خطرہ محسوس ہو، ایران پر دباؤ بڑھے اور امریکا یا اسرائیل مزید براہِ راست کارروائی کریں—تو واقعات ایک دوسرے کو تیزی سے آگے دھکیل سکتے ہیں۔

پھر کوئی نہیں بتا سکے گا کہ جنگ کہاں شروع ہوئی تھی اور کہاں ختم ہوگی۔

سب سے زیادہ قیمت کون ادا کرے گا؟

ہمیشہ کی طرح عام یمنی شہری۔

ایک طرف میزائل ہوں گے، دوسری طرف ناکہ بندی، تیسری طرف معاشی تباہی اور درمیان میں وہ لوگ جن کے پاس نہ کوئی فوج ہے، نہ میزائل، نہ سیاسی طاقت۔

پچھلی جنگ نے یمن کو بھوک، بیماری، غربت اور تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔

اگر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ چھڑ گئی تو سوال یہ نہیں ہوگا کہ کون جیتے گا؟

سوال یہ ہوگا:

یمن میں بچے گا کیا؟

آخری سوال

مشرقِ وسطیٰ میں آج کئی طاقتیں اپنی اپنی شطرنج کھیل رہی ہیں۔

ایران اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب اپنی سلامتی اور معاشی منصوبوں کو بچانا چاہتا ہے۔

حوثی اپنی طاقت اور سیاسی حیثیت مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل اپنے مخالفین کا دباؤ توڑنا چاہتے ہیں۔

لیکن اس کھیل میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہر فریق سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر اسی یقین سے جنم لیتی ہیں۔

آج باب المندب میں رکی ہوئی ایک کشتی کل عالمی منڈیوں کو ہلا سکتی ہے۔

آج یمن میں گونجنے والی ایک گولی کل ریاض، تہران، واشنگٹن یا تل ابیب میں نئی جنگی حکمتِ عملی کا سبب بن سکتی ہے۔

اور اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو شاید دنیا کو ایک بار پھر وہی سوال پوچھنا پڑے:

کیا یمن دوبارہ جنگ کے شعلوں میں جانے والا ہے—یا اس بار پوری خلیجی خطہ اس آگ کی لپیٹ میں آئے گا؟

Leave a reply