پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد؛ تینوں ممالک کی مشترکہ طاقت کیا ہے؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد؛ تینوں ممالک کی مشترکہ طاقت کیا ہے؟

تحریر:عبداللہ

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے درمیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون نے عالمی توجہ حاصل کرلی ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں سیکیورٹی کے نئے بندوبست کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے کا مرکزی نکتہ اجتماعی دفاع ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف کارروائی تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔ اس پیش رفت سے خطے میں دفاعی تعاون، مشترکہ حکمت عملی اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطے میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

تینوں ممالک کی مجموعی دفاعی طاقت

ترک صحافی چیتنر چیتن کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مجموعی معاشی قوت تقریباً 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچتی ہے، جبکہ تینوں ممالک کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 20 لاکھ فوجی اہلکار، ایک ہزار جنگی طیارے، 7 ہزار ٹینک، 90 ہزار بکتر بند گاڑیاں اور 34 آبدوزیں موجود ہیں۔

یہ اعداد و شمار اس اتحاد کو محض سیاسی شراکت داری کے بجائے ایک قابلِ ذکر دفاعی قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں، اگرچہ عملی جنگی صلاحیت کا انحصار صرف ہتھیاروں کی تعداد پر نہیں بلکہ کمانڈ، لاجسٹکس، انٹیلی جنس، تربیت اور مشترکہ آپریشنل صلاحیت پر بھی ہوتا ہے۔

پاکستان کیا فراہم کرسکتا ہے؟

پاکستان کی سب سے بڑی اسٹریٹجک طاقت اس کی جوہری صلاحیت، بڑی مسلح افواج اور طویل فوجی تجربہ ہے۔ ملک نے مختلف علاقائی تنازعات اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران وسیع عسکری تجربہ حاصل کیا ہے۔

پاکستان کی جوہری صلاحیت اسے اس اتحاد میں ایک اہم اسٹریٹجک ڈیٹرنس فراہم کرنے والا ملک بناتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی افواج کی افرادی قوت، فضائی دفاع، میزائل ٹیکنالوجی اور فوجی تربیت بھی باہمی دفاعی تعاون میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

سعودی عرب کی طاقت

سعودی عرب کی سب سے نمایاں قوت اس کی مضبوط مالی اور معاشی حیثیت ہے۔ دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل سعودی عرب کے پاس دفاعی اخراجات، جدید فوجی سازوسامان کے حصول اور بڑے پیمانے پر دفاعی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔

سعودی عرب کی عالمی معاشی حیثیت، اوپیک میں کردار اور جی 20 کی رکنیت بھی اسے اس شراکت داری میں اہم سفارتی اور اقتصادی وزن فراہم کرتی ہے۔

ترکیہ کی دفاعی صنعت

ترکیہ اس اتحاد میں اپنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت کے باعث خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ڈرونز، بکتر بند گاڑیوں، جنگی بحری پلیٹ فارمز اور مختلف دفاعی نظاموں کی مقامی تیاری نے ترکیہ کو دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم ملک بنا دیا ہے۔

ترکیہ کی دفاعی صنعت مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی شیئرنگ اور مقامی سطح پر دفاعی صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں میں تینوں ممالک کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

کیا یہ امریکا کا متبادل ہے؟

ماہرین کے مطابق اس طرح کے دفاعی معاہدے کو فوری طور پر امریکی سیکیورٹی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ خطے کے ممالک گزشتہ کئی برسوں سے اپنی سیکیورٹی شراکت داری کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار کم کیا جاسکے۔

رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ کرسٹین کوٹس السریچسن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک امریکی سیکیورٹی شراکت داری کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ نئے اسٹریٹجک آپشنز تلاش کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق نئے اتحادوں کا مقصد لازماً امریکا کی جگہ لینا نہیں بلکہ ممالک کے پاس سیکیورٹی کے مزید راستے پیدا کرنا ہے۔

ایران کے لیے کیا پیغام ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کو ایران کے خلاف براہِ راست فوجی اتحاد قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ماضی میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

تاہم ایسا اتحاد کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف اجتماعی ڈیٹرنس ضرور پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں ممکنہ ردعمل کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ حملہ آور کے لیے خطرات بڑھا سکتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پر معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو بیرونی سیکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کے بجائے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

پاکستان کے لیے اہم پیش رفت

تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کے مطابق اس شراکت داری سے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی ڈھانچے میں زیادہ نمایاں کردار مل سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو ایک مشترکہ فریم ورک میں آگے بڑھانے کا موقع بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی مالی صلاحیت پاکستان کے فوجی تجربے اور اسٹریٹجک صلاحیت کے ساتھ مل کر مستقبل میں مشترکہ دفاعی منصوبوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اصل امتحان عملدرآمد ہوگا

اگرچہ معاہدہ بظاہر تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جاتا ہے، تاہم اس کی اصل اہمیت اس کے عملی نفاذ سے واضح ہوگی۔

یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں باقی دونوں ممالک کس حد تک عملی، عسکری یا سیاسی مدد فراہم کرتے ہیں، مشترکہ کمانڈ اور انٹیلی جنس تعاون کس شکل میں سامنے آتا ہے اور دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کتنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔

فی الحال یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک ایسے اسٹریٹجک فریم ورک میں قریب لاتا دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت بڑھانا اور ممکنہ جارحیت کی صورت میں اس کی قیمت کو زیادہ کرنا ہے۔

Leave a reply