آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول؟ ٹرمپ کے بڑے دعوے نے دنیا کو چونکا دیا

0
0
آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول؟ ٹرمپ کے بڑے دعوے نے دنیا کو چونکا دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں اور اس وقت اہم بحری گزرگاہ پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے، تاہم خطے میں کشیدگی کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت اب بھی محدود ہے۔ انہوں نے امریکی بحریہ کی موجودگی کو ایک مضبوط دفاعی حصار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں تو امریکی فوج انہیں تلاش کرکے صاف کردیتی ہے۔
ایران نے امریکی صدر کے مؤقف سے مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا اور تہران کے دیگر مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کے مطابق ایران نے مطالبات میں امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے، خطے سے امریکی فوج کے انخلا، جنگی نقصانات کے ازالے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کو شامل کیا ہے۔ ایران نے خطے میں اپنے اتحادیوں کے خلاف امریکی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگی ہرجانے کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر معاوضے کی بات ہو رہی ہے تو ایران کو ان امریکی شہریوں کے لیے بھی ادائیگی کرنی چاہیے جو ماضی میں ایران سے منسلک حملوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انہوں نے ایرانی حکومت کے خلاف مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کے لیے بھی معاوضے کی بات کی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی، اسی لیے خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی خام تیل اور برینٹ کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مسلسل رکاوٹ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے، تاہم فی الحال مکمل علاقائی جنگ کے امکانات کو بنیادی منظرنامہ نہیں سمجھا جا رہا۔

Leave a reply