
کوہاٹ پولیس لائنز میں دہشت گرد حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا، کارروائی کے دوران خودکش حملہ آور سمیت 8 دہشت گرد مارے گئے۔
پولیس حکام کے مطابق حملے میں مجموعی طور پر 23 افراد شہید ہوئے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں میں پولیس کے مختلف اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، جبکہ واقعے میں 100 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
حکام کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس لائنز کی مسجد کو نشانہ بنایا، جس کے بعد بعض حملہ آور اسپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہوگئے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مرحلہ وار کلیئرنس آپریشن شروع کیا، جو دوسرے روز بھی جاری رہا۔
آپریشن کی نگرانی سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی نے کی۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے دستی بم حملے میں ایڈیشنل آئی جی بھی زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس لائنز کے علاقے کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ حملے میں زخمی ہونے والوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
شہدا کی نماز جنازہ ادا
پولیس لائنز کوہاٹ میں حملے میں شہید ہونے والے افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید سمیت اعلیٰ پولیس اور سول حکام نے شرکت کی۔
پولیس کے دستے نے شہدا کو سلامی پیش کی، جبکہ پولیس، سیکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کے افسران نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ نماز جنازہ کے بعد شہدا کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردیئے گئے۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق حملے میں ملوث نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
حکام کے مطابق پولیس لائنز اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔








