تعلیم کا خاموش قتل! اربوں روپے خرچ، پھر بھی کروڑوں بچے اسکول سے باہر کیوں؟

تعلیم کا خاموش قتل! اربوں روپے خرچ، پھر بھی کروڑوں بچے اسکول سے باہر کیوں؟

تحریر:عبداللہ

پاکستان میں تعلیم صرف ایک شعبہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران بن چکی ہے جس پر ہر حکومت بڑے بڑے دعوے تو کرتی ہے، مگر نتائج آج بھی مایوس کن ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر اربوں روپے خرچ ہونے، عالمی اداروں کی مالی معاونت اور مسلسل پالیسی سازی کے باوجود کروڑوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر کیوں ہیں؟

18ویں آئینی ترمیم کے بعد امید تھی کہ تعلیم کا اختیار صوبوں کو منتقل ہونے سے حالات بہتر ہوں گے۔ خیال تھا کہ مقامی سطح پر فیصلے ہوں گے، وسائل مؤثر انداز میں استعمال ہوں گے اور ہر بچے تک تعلیم پہنچے گی۔ لیکن ایک دہائی سے زیادہ گزرنے کے باوجود زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

حالیہ پالیسی جائزوں کے مطابق پاکستان آج بھی تعلیم پر اپنی قومی آمدن کا نہایت کم حصہ خرچ کرتا ہے، جبکہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ کہیں اسکول موجود نہیں، کہیں اساتذہ کی کمی ہے، کہیں بچیاں تعلیم سے دور ہیں، اور کہیں غربت والدین کو بچوں سے مزدوری کروانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ تعلیم ہر سیاسی جماعت کے منشور میں تو نظر آتی ہے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ بجٹ کم ہو جاتا ہے، منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں اور جوابدہی کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی تعلیمی انقلاب لانا ہے تو صرف اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ تعلیم پر سرمایہ کاری بڑھانا، اسکولوں کی بنیادی سہولتیں بہتر بنانا، اساتذہ کی تربیت، مقامی حکومتوں کو مؤثر اختیارات دینا اور شفاف نگرانی کا نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔

یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر کب تک پاکستان کا مستقبل سیاسی نعروں کی نذر ہوتا رہے گا؟ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جب تک ہر بچے کو معیاری تعلیم نہیں ملتی، ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔

تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ دراصل مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، لیکن اگر یہی سرمایہ کاری مسلسل نظر انداز ہوتی رہی تو اس کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑے گی۔

Leave a reply