
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب ایل پی جی کی قیمتوں نے بھی شہریوں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ایل پی جی کی فی کلو قیمت 254 روپے مقرر کی گئی ہے، تاہم کئی علاقوں میں گیس مقررہ نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
کراچی میں صارفین کو اوگرا کے مقرر کردہ نرخ پر ایل پی جی دستیاب نہیں، جہاں مختلف علاقوں میں گیس کی قیمت 340 سے 370 روپے فی کلو تک وصول کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔
لاہور میں بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر دکاندار اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر رہے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں فی کلو قیمت 450 روپے تک پہنچنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
کوئٹہ میں بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر فی کلو قیمت تقریباً 252 روپے مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں ہول سیل سطح پر گیس 380 سے 420 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں 120 روپے سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں اور دیگر کاروباری شعبوں کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ایل پی جی کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی کریں، مقررہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔








