
برطانیہ کے مشہور کوئز شو ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ میں پیش آنے والا ایک واقعہ آج بھی ٹی وی کی دنیا کے بڑے اسکینڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امیدوار نے 10 لاکھ پاؤنڈ کا انعام جیتا، مگر بعد میں الزام لگا کہ کامیابی میں خفیہ اشاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ 2001 میں پیش آیا، جب برطانوی فوج کے سابق میجر چارلس اینگرام نے شو میں شرکت کی۔ پروگرام کے دوران وہ مشکل سوالات کے جواب دیتے ہوئے آخری مرحلے تک پہنچ گئے، جہاں انہیں 10 لاکھ پاؤنڈ جیتنے کے لیے صرف ایک سوال کا درست جواب دینا تھا۔
آخری سوال تھا کہ ’’ایک کے ساتھ 100 صفر لگانے سے بننے والے عدد کو کیا کہا جاتا ہے؟‘‘ اس کے ممکنہ جوابات میں گوگول، میگاٹرون، گیگا بٹ اور نینومول شامل تھے۔ چارلس اینگرام کافی دیر تک تذبذب کا شکار رہے اور کئی بار اپنے جواب تبدیل کرتے رہے۔
تقریباً ساڑھے نو منٹ سوچنے کے بعد انہوں نے گوگول کو درست جواب قرار دیا، جو صحیح ثابت ہوا اور وہ ایک ملین پاؤنڈ کے انعام کے حقدار بن گئے۔
تاہم پروگرام کی ریکارڈنگ کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد پروڈکشن ٹیم کے ایک رکن کو کچھ مشکوک محسوس ہوا۔ تحقیقات میں الزام لگایا گیا کہ جب بھی اینگرام درست جواب والے آپشن پر پہنچتے، اسی وقت حاضرین میں موجود ایک شخص کی کھانسی سنائی دیتی تھی، جسے مبینہ طور پر اشارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران دعویٰ کیا گیا کہ چارلس اینگرام، ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام اور ان کے دوست ٹیکوین ویٹاک نے مل کر ایک منصوبہ بنایا تھا، جس کے تحت امیدوار کو درست جواب تک پہنچنے میں مدد دی گئی۔
بعد ازاں تینوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی اور انعامی رقم کی ادائیگی روک دی گئی۔ چارلس اینگرام نے تاہم تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی دھوکہ دہی نہیں کی اور کئی جوابات اندازے کی بنیاد پر دیے تھے۔
یہ واقعہ کئی سال گزرنے کے باوجود ٹی وی کوئز شوز کی تاریخ کے سب سے مشہور تنازعات میں شامل ہے اور آج بھی اسے ’’کھانسی والے اسکینڈل‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔









