غزہ میں بڑی پیش رفت، حماس کی مرحلہ وار غیر مسلحی پر اہم معاہدہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں حماس سمیت مسلح گروہوں کی مرحلہ وار غیر مسلحی کے لیے ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن کے قیام اور نئی سیاسی پیش رفت کی راہ ہموار کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق منصوبے کے تحت جیسے جیسے غزہ میں اسلحہ ختم کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی فوج بھی مرحلہ وار علاقے سے واپس جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے غزہ میں نئی فلسطینی انتظامیہ کے قیام کے امکانات مضبوط ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ عبوری مرحلے کے دوران ایک بین الاقوامی استحکام فورس، فلسطینی پولیس کے تعاون سے غزہ میں سیکیورٹی اور انتظامی معاملات سنبھالے گی تاکہ منتقلی کا عمل منظم انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
دوسری جانب حماس نے بھی ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ اسلحے اور اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا سے متعلق اتفاق رائے قائم ہوا ہے۔ تنظیم نے زور دیا کہ ثالث ممالک معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی منصوبے میں پہلے مرحلے پر حماس کے زیرِ استعمال سرکاری نوعیت کے ہتھیار عبوری انتظامیہ کے حوالے کیے جائیں گے، جبکہ بعد ازاں بھاری اسلحہ، زیرِ زمین سرنگوں اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز کو ختم کرنے کا عمل شروع ہوگا۔
منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ مختلف مسلح گروہوں اور قبائلی دھڑوں سے بھی ہتھیار جمع کرائے جائیں، جبکہ آخری مرحلے میں شہریوں کے ذاتی ہتھیاروں سے متعلق فیصلے فلسطینی قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فی الحال ایک ابتدائی فریم ورک ہے اور اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے مزید تکنیکی تفصیلات، باہمی اتفاق رائے اور متعلقہ فریقوں کی منظوری درکار ہوگی۔









