دنیا کا انوکھا ترین ازدواجی راز، شوہر نے دو دہائیاں خاموش کیوں گزار دیں؟

جاپان میں ایک ایسے میاں بیوی کی کہانی سامنے آئی ہے جنہوں نے ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے تقریباً 20 سال تک باقاعدہ گفتگو نہیں کی۔ اس غیر معمولی واقعے نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی۔
رپورٹس کے مطابق جاپان کے جزیرے ہوکائڈو سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کا مسئلہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ان کے بیٹے نے ایک ٹی وی پروگرام سے مدد طلب کی۔ بیٹے کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے والدین کو کبھی عام میاں بیوی کی طرح بات کرتے نہیں دیکھا۔
شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی کئی دہائیوں تک ایک ساتھ رہے، تین بچوں کی پرورش کی، ایک ہی گھر میں زندگی گزاری اور کھانے بھی اکٹھے کھائے، لیکن ان کے درمیان گفتگو تقریباً ختم ہو چکی تھی۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ اس خاموشی کے پیچھے کوئی بڑا جھگڑا یا خیانت نہیں تھی۔ شوہر کے مطابق وہ اس وقت جذباتی طور پر دور ہو گیا جب اسے محسوس ہوا کہ بیوی بچوں کی دیکھ بھال میں زیادہ مصروف ہے اور اسے کم توجہ مل رہی ہے۔
وقت کے ساتھ یہ خاموشی عادت بن گئی اور شوہر بیوی کی باتوں کا جواب صرف اشاروں یا مختصر الفاظ میں دینے لگا۔
بیٹے کی درخواست پر ٹی وی پروگرام کی انتظامیہ نے دونوں کی ملاقات کا اہتمام اسی پارک میں کیا جہاں ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے بچے بھی اس موقع پر موجود تھے اور دور کھڑے والدین کے درمیان ہونے والی گفتگو دیکھتے رہے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے برسوں بعد خاموشی توڑی اور اپنی اہلیہ سے کہا کہ بہت وقت گزر چکا ہے، وہ بچوں کے لیے ہمیشہ فکر مند رہی اور اس نے زندگی میں بہت مشکلات برداشت کیں۔ اس نے اپنی اہلیہ کی قربانیوں پر شکریہ ادا کیا۔
اس جذباتی ملاقات نے ثابت کیا کہ بعض اوقات رشتوں میں پیدا ہونے والی دوریاں ختم کرنے کے لیے صرف ایک سچی گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے۔









