
اسلام آباد: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی نئی کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔
سرکاری اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے عوامی مفاد اور معاشی استحکام کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ حکومت بین الاقوامی معاہدوں اور مالی ذمہ داریوں کے تحت فیصلے کر رہی ہے اور جہاں ممکن ہو عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق موجودہ حکومت اپنے دور میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کر چکی ہے، جس سے صارفین کو فائدہ پہنچا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود اس کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا جا رہا۔ ان کا مؤقف ہے کہ بلند پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکس عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
کچھ سیاسی رہنماؤں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پہلے کے مقابلے میں کم ہو چکی ہیں تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں اب بھی نسبتاً زیادہ کیوں برقرار ہیں۔
ادھر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں نے بھی حالیہ دنوں میں قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قیمتوں کے حساب میں اختلافات کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، خطے کی جغرافیائی صورتحال اور حکومتی ٹیکس پالیسی آئندہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جبکہ عوام کو امید ہے کہ عالمی منڈی میں مزید کمی کی صورت میں مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں ریلیف دیا جائے گا۔








