
شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دنوں میں بوتل بند پانی کا استعمال عام ہو جاتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں طویل عرصے تک محفوظ پانی کے ممکنہ صحت اثرات پر عالمی سطح پر تحقیق جاری ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں فروخت ہونے والے بہت سے بوتل بند پانی کے برانڈز مختلف ذرائع سے حاصل شدہ پانی کو جدید فلٹریشن، ریورس اسموسس اور دیگر صفائی کے مراحل سے گزار کر مارکیٹ میں پیش کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانی کی صفائی کے یہ طریقے جراثیم اور آلودگی کو کم کرنے میں مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔
سائنس دانوں کی توجہ حالیہ برسوں میں خاص طور پر “مائیکرو پلاسٹک” نامی انتہائی باریک پلاسٹک ذرات پر مرکوز رہی ہے۔ مختلف بین الاقوامی مطالعات میں بوتل بند پانی سمیت کئی غذائی اور ماحولیاتی ذرائع میں ان ذرات کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پلاسٹک کی بوتلیں زیادہ درجہ حرارت یا براہِ راست دھوپ میں طویل وقت تک رکھی جائیں تو پلاسٹک کے اجزا کے پانی میں منتقل ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم انسانی صحت پر مائیکرو پلاسٹک کے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے تحقیق ابھی جاری ہے اور حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے مزید مطالعات درکار ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ استعمال شدہ پلاسٹک بوتلوں کا بڑھتا ہوا کچرا ماحول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ان کے مطابق پلاسٹک کی مناسب تلفی اور ری سائیکلنگ نہ ہونے کی صورت میں آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جہاں ممکن ہو، صاف اور محفوظ پانی کو شیشے یا سٹین لیس سٹیل کی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلوں میں محفوظ کیا جائے۔ اس کے علاوہ گھر میں نصب معیاری فلٹر یا ابلا ہوا پانی بھی ایک متبادل ذریعہ ہو سکتا ہے۔
صحت اور ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ پانی کا انتخاب کرتے وقت صفائی، ذخیرہ کرنے کے طریقے اور استعمال ہونے والے برتنوں کے معیار پر توجہ دینا ضروری ہے۔









