تہران اور واشنگٹن جوہری معاہدے کے قریب، کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کی کوشش

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کے تناظر میں اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق نرمی دکھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ اور طریقۂ کار ابھی طے ہونا باقی ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور ایران اصولی طور پر اس مواد کے مستقبل پر بات چیت کے لیے تیار ہے، جو جوہری ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور اہم آبی گزرگاہوں کی صورتحال بہتر بنانا ہے۔ تاہم انہوں نے کسی معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس موجود تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کے مستقبل پر مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن میں اسے ملک سے باہر منتقل کرنا، اس کی افزودگی کی سطح کم کرنا یا اسے غیر مؤثر بنانا شامل ہے۔
اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ذخیرہ مزید افزودہ ہو کر متعدد جوہری ہتھیاروں کے لیے کافی مواد بن سکتا ہے، جبکہ اسی وجہ سے یہ معاملہ مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بھی بنا ہوا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ابتدائی معاہدے میں ایران سے کم از کم یہ یقین دہانی لینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ذخیرے میں اضافہ یا اس کی افزودگی کو محدود کرے گا، بصورت دیگر مذاکرات کے ناکام ہونے اور ممکنہ فوجی کشیدگی کے خدشات بھی موجود ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی میں ایران کے جوہری مراکز پر ممکنہ حملوں اور خفیہ کارروائیوں کے مختلف منصوبے زیر غور رہے، تاہم حتمی منظوری نہیں دی گئی۔
مزید برآں، زیر غور معاہدے میں ممکنہ طور پر ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے، تاہم یہ اقدامات کسی حتمی جوہری سمجھوتے سے مشروط ہوں گے۔
مجموعی طور پر صورتحال اب بھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور دونوں فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کی شرائط پر تفصیلی مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے۔









