
سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو تنازعات اور خلع کے ایک کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خلع کے معاملے میں بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اور اس کے بغیر خلع کو یکطرفہ طور پر درست تصور نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس شاہد بلال حسن نے تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کوئی بیوی ظلم و زیادتی کی بنیاد پر مقدمہ دائر کرے تو اس دعوے کو براہِ راست خلع میں تبدیل کرنا اس کے قانونی اور مالی حقوق پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دعوے (ظلم) کو جاری رکھے یا خلع کی طرف جائے، اور عدالت کو اسکے فیصلے کونظرانداز نہیں کرناچاہیے، چاہے ازدواجی تعلق عملاً ختم ہی ہوچکا ہو۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ اس میں ذہنی اذیت، جذباتی دباؤ، تذلیل اور مسلسل نظراندازی بھی شامل ہے۔ ایسے عوامل بھی قانونی طور پر تشدد کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار فوجداری مقدمات کے مقابلے میں نسبتاً نرم ہوتا ہے، اور ان میں “غالب امکان” (balance of probabilities) کو بنیاد بنایا جاتا ہے، اس لیے سخت شہادتوں جیسے عینی گواہ یا ایف آئی آر کو ہر صورت لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
زیرِ سماعت کیس میں عدالت نے نوٹ کیا کہ شادی کے مختصر عرصے بعد ہی علیحدگی کا مقدمہ دائر کر دیا گیا تھا، جو اس بات کی مثال ہے کہ ازدواجی تنازعات بعض اوقات بہت جلد سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ اس کیس میں بیوی الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی، تاہم چونکہ رشتہ عملاً ختم ہو چکا ہے، اس لیے معاملہ جزوی طور پر واپس فیملی کورٹ کو بھیج دیا گیا ہے تاکہ خاتون کا حتمی مؤقف ریکارڈ کیا جا سکے اور اس کی واضح رضامندی کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ فیملی کورٹ 30 دن کے اندر کیس کا فیصلہ مکمل کرے اور نتیجہ بیوی کے انتخاب—یعنی خلع یا دعویٰٔ ظلم—کے مطابق قانون کے مطابق جاری کرے۔









