سونا سمجھ کر رکھے گئے ٹکڑے کی حقیقت جان کر ماہرین بھی چونک گئے

0
158
سونا سمجھ کر رکھے گئے ٹکڑے کی حقیقت جان کر ماہرین بھی چونک گئے

ہاٹ لائن نیوز : سال 2015 میں ڈیوڈ ہال نامی شخص کو آسٹریلیا کے شہر وکٹوریہ کے ایک پارک میں 17 کلو گرام وزنی پتھر کا ایک عجیب سرخی مائل ٹکڑا ملا۔

ڈیوڈ ہول نے یہ یقین کرتے ہوئے کہ اس ٹکڑے کے اندر سونا ہوسکتا ہے، اس بڑے پتھر کو برسوں تک اپنے پاس رکھا اور مختلف اوزاروں سے اسے توڑنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

جب ڈیوڈ ہاول نے اس ٹکڑے کو توڑنے کے لیے ہر طریقہ آزمایا تو وہ اسے میلبورن کے ایک میوزیم میں لے گئے جہاں انہوں نے ماہرین کی مدد لی۔

میوزیم کے ماہرین نے اس چٹان کا مطالعہ کیا جس کے بعد وہ یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ ڈیوڈ ہول کا جو ٹکڑا کئی سالوں سے اس کے پاس تھا وہ دراصل 4.6 بلین سال پرانا خلائی ٹکڑا تھا۔ میریبورو میٹیورائٹ کا نام اس پارک کے نام پر رکھا گیا ہے جہاں یہ پایا گیا تھا۔ اس کا وزن 17 کلو گرام ہے اور یہ زیادہ تر لوہے اور خاص معدنیات سے بنا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خلائی چٹان سونے سے بھی زیادہ نایاب اور قیمتی ہے۔

یہ خلائی ٹکڑا ممکنہ طور پر 100 سے 1000 سال پہلے زمین پر گرا تھا اور مریخ اور مشتری کے درمیان سیارچے کی پٹی سے آیا تھا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ سونے سے زیادہ قیمتی ہے کیونکہ اس سے ہمیں ابتدائی نظام شمسی کے بارے میں جاننے میں مدد مل سکتی ہے اور شاید زندگی کیسے شروع ہوئی۔ کیونکہ یہ اتنا نایاب اور اہم ٹکڑا ہے، آج اس کی قیمت لاکھوں ڈالر ہے۔

Leave a reply