حدیجہ شاہ اور صنم جاوید کی آئی جی کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر جواب طلب

0
216
حدیجہ شاہ اور صنم جاوید کی آئی جی کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر جواب طلب

لاہور ہائیکورٹ

خدیجہ شاہ اور صنم جاوید کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کرنے پر توہین عدالت کیس پر سماعت

عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے تازہ رپورٹ طلب کرلی

جسٹس علی باقر نجفی نے کیس کی سماعت کی

خدیجہ شاہ نے آئی جی پنجاب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی

عدالت نے نامعلوم کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا موقف

درخواست گزار کیخلاف تھانہ سرور روڈ اور تھانہ گلبرگ کیسز میں گرفتار کیا گیا موقف

دونوں کیسز میں عدالت نے ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی موقف

کیسز نہ ہونے کی انڈر ٹیکنگ کے باوجود درخواست گزار کو نظر بند کردیا گیا موقف

11 دسمبر کو نظر بندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا موقف

ایک دن کی غیر قانونی قید کے بعد کوئٹہ پولیس کے حوالے کردیا گیا موقف

عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب عدالت میں پیش ہؤا موقف

11 دسمبر کو عدالت نے درخواست پر حکم جاری کیا موقف

ان کا موقف تفصیل سے سنا جا چکا ہے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل

تفتیش کا عمل رکتا نہیں نئے شواہد انے پر تحقیقات آگے بڑھتی ہیں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل

کیا انکشاف اس روز ہونا تھا جب ضمانت منظور ہوئی عدالت

اس سے قبل کیس میں ملوث ہونے کا انکشاف کیوں سامنے نہیں آیا عدالت

ان سوالات کی وضاحت ضروری ہے عدالت

آئی جی پنجاب نے واضح توہین عدالت کا ارتکاب کیا، وکیل درخواست گزار

آئی جی پنجاب کو شوکاز نوٹس جاری کرکے طلب کیا جائے، وکیل درخواست گزار

جب تک چیک اینڈ بیلنس نہ ہوگا تو عدالتی حکم توہین ہوتی رہے گی، وکیل درخواست گزار
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ نے 10 اکتوبر کی رپورٹ پڑھی

ٹھیک اس وقت دو کیسز تھے ضمانت کے بعد تیسرا کیس کیسے بنا، عدالت
جس طریقے سے کیس میں ملوث کیا گیا، کیا وہ درست ہے؟ عدالت
کیسز کی تحقیقات قانون کے مطابق ہوئیں لیگل پراسس اختیار کیا گیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل
خدیجہ شاہ کو ریاستی مشینری کا غلط استعمال کرکے نئے کیسز میں ملوث کیا گیا وکیل درخواست گزار

Leave a reply