
لاہور ہائیکورٹ
خدیجہ شاہ اور صنم جاوید کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کرنے پر توہین عدالت کیس پر سماعت
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے تازہ رپورٹ طلب کرلی
جسٹس علی باقر نجفی نے کیس کی سماعت کی
خدیجہ شاہ نے آئی جی پنجاب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی
عدالت نے نامعلوم کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا موقف
درخواست گزار کیخلاف تھانہ سرور روڈ اور تھانہ گلبرگ کیسز میں گرفتار کیا گیا موقف
دونوں کیسز میں عدالت نے ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی موقف
کیسز نہ ہونے کی انڈر ٹیکنگ کے باوجود درخواست گزار کو نظر بند کردیا گیا موقف
11 دسمبر کو نظر بندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا موقف
ایک دن کی غیر قانونی قید کے بعد کوئٹہ پولیس کے حوالے کردیا گیا موقف
عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب عدالت میں پیش ہؤا موقف
11 دسمبر کو عدالت نے درخواست پر حکم جاری کیا موقف
ان کا موقف تفصیل سے سنا جا چکا ہے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل
تفتیش کا عمل رکتا نہیں نئے شواہد انے پر تحقیقات آگے بڑھتی ہیں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل
کیا انکشاف اس روز ہونا تھا جب ضمانت منظور ہوئی عدالت
اس سے قبل کیس میں ملوث ہونے کا انکشاف کیوں سامنے نہیں آیا عدالت
ان سوالات کی وضاحت ضروری ہے عدالت
آئی جی پنجاب نے واضح توہین عدالت کا ارتکاب کیا، وکیل درخواست گزار
آئی جی پنجاب کو شوکاز نوٹس جاری کرکے طلب کیا جائے، وکیل درخواست گزار
جب تک چیک اینڈ بیلنس نہ ہوگا تو عدالتی حکم توہین ہوتی رہے گی، وکیل درخواست گزار
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ نے 10 اکتوبر کی رپورٹ پڑھی
ٹھیک اس وقت دو کیسز تھے ضمانت کے بعد تیسرا کیس کیسے بنا، عدالت
جس طریقے سے کیس میں ملوث کیا گیا، کیا وہ درست ہے؟ عدالت
کیسز کی تحقیقات قانون کے مطابق ہوئیں لیگل پراسس اختیار کیا گیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل
خدیجہ شاہ کو ریاستی مشینری کا غلط استعمال کرکے نئے کیسز میں ملوث کیا گیا وکیل درخواست گزار








