
اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج نے محفوظ فیصلہ جاری کرتے ہوئے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی ہے۔
عدالت نے ملزم کو 20 لاکھ روپےجرمانہ ادا کرنیکا حکم بھی دیا ہے جب کہ دیگر دفعات کے تحت 10 سال قیدکی سزا بھی سنادی گئی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد مقتولہ ثنا یوسف کی والدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اور میڈیا نے کیس میں بھرپور تعاون کیا اور انہیں انصاف ملا ہے۔ انہوں نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجرم کو سرعام سزا دی جانی چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 3 جون کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں پیش آیا تھا، جہاں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو ان کے گھر میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ پولیس نے ملزم عمر حیات کو بعد ازاں فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ سے گرفتار کیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران 50 سے زائد پیشیاں ہوئیں جبکہ استغاثہ کی جانب سے 31 گواہوں کی فہرست پیش کی گئی، جن میں سے 27 گواہوں نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی بھی گواہوں کے طور پر پیش ہوئیں۔
عدالت نے گزشتہ سال 20 ستمبر کو ملزم پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ 25 ستمبر کو باقاعدہ گواہی کا آغاز ہوا تھا۔
مقتولہ ثنا یوسف سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں اور ان کے ٹک ٹاک پر تقریباً 8 لاکھ جبکہ انسٹاگرام پر 5 لاکھ کے قریب فالوورز تھے۔









