
لنکڈ اِن نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار ہونے والی غیر معیاری اور بار بار دہرائے جانے والے مواد کی روک تھام کے لیے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ کمپنی کا مقصد پلیٹ فارم پر معیاری تحریروں، حقیقی تجربات اور بامعنی پیشہ ورانہ گفتگو کو فروغ دینا ہے۔
کمپنی کے مطابق، اے آئی ٹولز کے ذریعے تیار ہونے والی ایسی پوسٹس جن میں ذاتی رائے، انفرادی تجربے اور اصل سوچ کی کمی ہو، صارفین کے لیے پلیٹ فارم کی افادیت کم کر سکتی ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے لنکڈ اِن نے اپنے مواد کی جانچ کے نظام کو بہتر بنایا ہے اور متعلقہ ٹیموں کو بھی متحرک کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد پر تحقیق کرنے والے ادارے پینگرم کی ایک رپورٹ کے مطابق، لنکڈ اِن پر شائع ہونے والی طویل تحریروں میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کا تناسب نمایاں ہے۔ اس رجحان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اصل اور خودکار مواد کے درمیان فرق کرنے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مواد کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے لنکڈ اِن نے صارفین کو مشتبہ اسپیم پوسٹس کی نشاندہی کرنے کا آپشن بھی فراہم کیا ہے۔ رپورٹ کردہ معلومات کے مطابق، اس سہولت کو متعارف کرائے جانے کے ابتدائی دو ہفتوں میں دس لاکھ سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا گیا۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نئے اقدامات اور نظام میں بہتری کے بعد غیر معیاری اے آئی مواد کی صارفین تک رسائی میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔ اس طرح پلیٹ فارم پر ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے جو خودکار انداز میں تیار کیا گیا ہو اور صارفین کے لیے کوئی خاص قدر نہ رکھتا ہو۔
لنکڈ اِن کے چیف ایڈیٹر ڈین روتھ کے مطابق، اے آئی کا ضرورت سے زیادہ استعمال، خصوصاً انسانی نظرثانی اور تدوین کے بغیر، تحریروں کو یکساں اور غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔ ان کے بقول، پلیٹ فارم پر وہ پوسٹس زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جن میں لکھنے والے کی اپنی سوچ، تجربات اور منفرد انداز نمایاں ہو۔
نئے نظام کے تحت اگر کسی پوسٹ کو خودکار اور کم معیار کے مواد کے طور پر شناخت کیا جائے تو دوسرے صارفین کی فیڈ میں اس کی نمائش محدود کی جا سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد صرف مواد کی مقدار کے بجائے اس کے معیار کو ترجیح دینا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ لنکڈ اِن کی مالک کمپنی مائیکروسافٹ خود مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم، لنکڈ اِن کا مؤقف ہے کہ اس کی پالیسی اے آئی کے استعمال کی مخالفت نہیں کرتی، بلکہ ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرتی ہے جس میں انسانی سوچ اور تخلیقی کردار شامل نہ ہو۔
اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود ذاتی تجربات، اصل خیالات اور انسانی تدوین کی اہمیت برقرار ہے۔ لنکڈ اِن کی نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد پیشہ ورانہ روابط کو زیادہ مؤثر اور صارفین کے لیے مفید بنانا ہے۔









