خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے کا فیصلہ

0
16
خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کرنے کا فیصلہ

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے جامع معائنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عمارتوں کی خستہ حالی کی نشاندہی اور طلبہ و اساتذہ کو ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنا ہے۔

یہ فیصلہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے۔ واقعے کی وجوہات جاننے اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر فخر عالم کی ہدایات پر تمام اضلاع میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا سروے کیا جائے گا۔ تکنیکی معائنے کے دوران چھتوں، دیواروں، بنیادوں اور ستونوں کی مضبوطی کا جائزہ لیا جائے گا۔

حکام کے مطابق معائنے کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کو تین درجوں، محفوظ، مرمت کی ضرورت والی اور غیر محفوظ، میں تقسیم کیا جائے گا۔ خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کی فوری نشاندہی کرکے ضروری حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔

چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام سے اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ تمام اضلاع کو 26 اکتوبر تک سروے رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہر سرکاری اسکول کے لیے سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے محکمہ مواصلات و تعمیرات کو تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو عمارتوں کی حالت اور تعمیراتی معیار کا جائزہ لیں گی۔ سرکاری اسکولوں کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت جانچنے کے لیے بھی طریقۂ کار مرتب کیا جائے گا۔

نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقات

دیر کالونی پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری ٹرانسپورٹ زبیر احمد کریں گے، جبکہ چیف انجینئر محکمہ مواصلات و تعمیرات جمشید علی خان کمیٹی کے رکن ہوں گے۔

کمیٹی عمارت کے تعمیراتی معیار، ساخت اور حادثے کی ممکنہ وجوہات کا جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ اگر کسی قسم کی غفلت سامنے آئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی کے لیے سفارشات بھی پیش کی جائیں گی۔

تحقیقاتی کمیٹی کو سات روز کے اندر رپورٹ مکمل کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داری کا تعین اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔

Leave a reply