خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے مختلف آئینی آپشنز زیرِ غور

0
12
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے مختلف آئینی آپشنز زیرِ غور

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف آئینی راستوں پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم فوری طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے بجائے متعدد آئینی اقدامات کو یکجا کرنے کا امکان بھی زیرِ غور ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ جاری رکھنے کے فیصلے کے بعد مرکز میں مختلف آئینی آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی ایک اقدام کے بجائے آئین میں موجود مختلف اختیارات کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی حکومت اس سے قبل آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی نظام سے متعلق اقدامات کو ممکنہ راستوں میں شامل قرار دے چکی ہے۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے امکان پر غور کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے جانے کو قرار دیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر آئینی طور پر ایسی صورتحال پیدا ہو جائے جس میں ایمرجنسی یا گورنر راج ضروری ہو تو حکومت آئین کے مطابق کارروائی کر سکتی ہے۔

تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق فی الحال دونوں میں سے کسی ایک اقدام کے فوری نفاذ کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور پی ٹی آئی کو اپنے مارچ سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کا ایک اور موقع دینے کی حکمت عملی بھی اختیار کی جا رہی ہے۔

آئینی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کا دائرہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے سنگین داخلی حالات میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے جن سے ملک یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ ہو اور صوبائی حکومت کے لیے صورتحال پر قابو پانا ممکن نہ رہے۔

دوسری جانب آرٹیکل 234 اس صورتِ حال سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں آئینی نظام کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے۔ اس کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور فرائض بھی مخصوص حالات میں متاثر یا معطل کیے جا سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے زیرِ غور ’’آئینی اقدامات کے امتزاج‘‘ کی حتمی شکل ابھی طے نہیں ہوئی، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت فی الحال صرف ایمرجنسی یا گورنر راج میں سے کسی ایک آپشن کے انتخاب تک محدود نہیں رہنا چاہتی۔

Leave a reply