3200 سال پرانا کتبہ، قدیم مصری شہر کی تلاش میں اہم سراغ

0
9
3200 سال پرانا کتبہ، قدیم مصری شہر کی تلاش میں اہم سراغ

قاہرہ: مصر میں ماہرین آثارِ قدیمہ کو شمالی صحرائے سینائی کے قریب ایک قدیم مقام سے تقریباً 3200 سال پرانا کتبہ ملا ہے، جس نے ایک طویل عرصے سے دریافت نہ ہونے والے قدیم مصری شہر کے ممکنہ مقام کی نشاندہی کی ہے۔

یہ کتبہ Tell Abu Seifi کے مقام سے ملا، جہاں ایک قدیم فوجی راستے کے آثار بھی موجود ہیں۔ کتبے پر مصر کے معروف فرعون رعمیس دوم کا حوالہ درج ہے، جنہوں نے تقریباً 1279 سے 1213 قبل مسیح تک مصر پر حکومت کی۔

مصری حکام کے مطابق آثارِ قدیمہ کی ٹیم نے اسی مقام پر ایک قدیم مندر کے باقیات بھی دریافت کیے ہیں۔ تاہم مندر کا بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے، جس کے باعث اس سے تاریخی معلومات حاصل کرنا مشکل ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کتبے، مندر اور دیگر آثار کی موجودگی اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ Tell Abu Seifi وہی قدیم میسان شہر ہو سکتا ہے جس کا ذکر تاریخی شواہد میں ملتا ہے۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اس شناخت کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا اور مزید کھدائی و تحقیق ضروری ہے۔

اس مقام سے ماضی میں ایک کانسی کی مہر بھی مل چکی ہے، جس کا تعلق تقریباً 304 سے 30 قبل مسیح کے دور سے بتایا جاتا ہے۔ اسی خطے میں اسی زمانے سے وابستہ تابوت اور کتبے بھی دریافت ہوئے ہیں۔

Tell Abu Seifi ایک ایسے قدیم راستے کے قریب واقع ہے جو مشرقی نیل کے علاقے کو دیگر خطوں سے ملاتا تھا۔ اس جغرافیائی اہمیت کے باعث بھی ماہرین کے لیے یہ مقام خاص توجہ کا مرکز ہے۔

ماہرین کے مطابق دستیاب شواہد دلچسپ ضرور ہیں، لیکن مزید ٹھوس ثبوت سامنے آنے تک اسے میسان شہر قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ مصری حکام کا کہنا ہے کہ مقام پر آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور کھدائی کا عمل جاری ہے۔

Leave a reply