
حکومت سے مذاکرات: پی ٹی آئی نے سات نکاتی مطالبات پیش کر دیے
اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سات نکاتی مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے مطالبات آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جانا چاہیے۔
سہیل آفریدی کے مطابق ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے آئین اور قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
پی ٹی آئی کے تجویز کردہ نکات میں وزیراعظم اور اپوزیشن قیادت کے درمیان باقاعدہ ملاقاتوں کا آغاز بھی شامل ہے۔ پارٹی نے حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی نمائندگی پر مشتمل ایک مشترکہ مذاکراتی کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی ہے۔
ڈرافٹ کے مطابق مجوزہ کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا ہوں گی، جبکہ آئندہ دو ماہ کے دوران مشاورت کے ذریعے اہم اور زیرِ التوا سیاسی معاملات پر پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔
پی ٹی آئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بنیادی انسانی، قانونی اور طبی حقوق یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ دونوں کو اہلِ خانہ اور وکلا سے باقاعدہ ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے۔
مطالبات میں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت جیلوں میں موجود سیاسی خواتین کی رہائی کا معاملہ بھی شامل ہے۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر پی ٹی آئی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان فوری اجلاس کی تجویز دی ہے۔ پارٹی کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں امن کے قیام کے لیے 72 گھنٹوں کے اندر مشاورتی اجلاس بلایا جانا چاہیے تاکہ مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر حکومت ان مطالبات پر عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی کراتی ہے تو پارٹی مجوزہ لانگ مارچ واپس لینے پر غور کر سکتی ہے۔
دوسری جانب پارٹی نے واضح کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں وہ آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کا حق استعمال کرے گی۔









