مذاکرات آخری لمحے میں کیوں ٹوٹے؟ محسن نقوی نے سہیل آفریدی پر بڑا الزام عائد کردیا

0
17
مذاکرات آخری لمحے میں کیوں ٹوٹے؟ محسن نقوی نے سہیل آفریدی پر بڑا الزام عائد کردیا

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات تقریباً کامیاب ہو چکے تھے، تاہم آخری مرحلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی مداخلت کے باعث بات چیت کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں نے تقریباً 12 گھنٹے تک سنجیدگی سے مذاکرات کیے۔ ان کے مطابق کئی نشستوں کے بعد معاہدے کا مسودہ بھی تیار کیا گیا اور بیشتر نکات پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اصل توجہ سیاسی معاملات کے بجائے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے اور صوبائی حکومت کے وفاق کے ساتھ تعاون پر مرکوز رہی۔ پولیس ایکٹ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی خواہش تھی کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں وفاق کے ساتھ واضح اور مؤثر تعاون کرے۔
محسن نقوی کے مطابق سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کو اختیار دیا تھا، تاہم بعد میں مذاکراتی عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں فریقین کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم یا ملتوی کرنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ اگر معاملات طے پا جاتے ہیں تو لانگ مارچ مؤخر کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوگئے۔ مذاکرات میں بنیادی اختلاف دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور وفاق و خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان تعاون کے معاملات پر برقرار رہا۔

Leave a reply