نباتاتی غذاؤں کا زیادہ استعمال آنتوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرسکتا ہے، تحقیق

0
31
نباتاتی غذاؤں کا زیادہ استعمال آنتوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرسکتا ہے، تحقیق

ویب ڈیسک: دنیا بھر میں کم عمر افراد میں آنتوں کے کینسر کے کیسز میں اضافہ تشویش کا باعث بن رہا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق میں ایسے غذائی انتخاب کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پودوں سے حاصل ہونے والی ایسی غذائیں جن میں مختلف قدرتی نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں، آنتوں کے کینسر کے کم خطرے سے منسلک ہیں۔

تحقیق میں 980 افراد کو شامل کیا گیا، جن میں 490 افراد آنتوں کے کینسر میں مبتلا تھے۔ شرکا کی غذائی عادات کا جائزہ لے کر یہ دیکھا گیا کہ وہ نباتاتی مرکبات سے بھرپور غذائیں کتنی مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق فائٹو کیمیکلز نامی قدرتی مرکبات مختلف پھلوں، سبزیوں اور دیگر نباتاتی غذاؤں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں پولی فینولز، فلیونوئڈز اور کیروٹین جیسے مرکبات شامل ہیں۔

تحقیق میں ایسے افراد میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر کم پایا گیا جو فائٹو کیمیکلز سے بھرپور مختلف غذائیں استعمال کرتے تھے۔ محققین کے تخمینے کے مطابق اس طرح کی غذاؤں کا زیادہ استعمال خطرے میں 52 فیصد تک کمی سے منسلک تھا۔

تحقیق میں خاص طور پر بیریز، سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، بیج، سالم اناج، گری دار میوے اور چائے جیسی غذاؤں کو فائٹو کیمیکلز کے اہم ذرائع کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان غذاؤں میں صرف نباتاتی مرکبات ہی نہیں بلکہ فائبر، وٹامنز اور معدنیات سمیت متعدد اہم غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں، جو مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں۔

محققین نے واضح کیا کہ کسی ایک غذا کو آنتوں کے کینسر سے بچاؤ کے لیے ’’سپر فوڈ‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم مختلف اقسام کی صحت بخش نباتاتی غذاؤں کو معمول کی خوراک کا حصہ بنانا صحت مند طرزِ زندگی کا اہم جز ہوسکتا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ غذائی عادات کے علاوہ آنتوں کے کینسر کے خطرے پر عمر، خاندانی تاریخ، جسمانی سرگرمی، وزن اور دیگر عوامل بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

Leave a reply