خاموش پہاڑ پر اکیلی طالبہ کا اسکول، ایسی کہانی جس نے سب کو حیران کردیا

الجزائر کے پہاڑی علاقے جیجل میں ایک ایسا پرائمری اسکول توجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں اس وقت صرف ایک طالبہ تعلیم حاصل کر رہی ہے، تاہم اسکول کے معمولات بدستور جاری ہیں۔
دارالحکومت الجزائر کے مشرق میں واقع پہاڑی علاقے اخرات میں قائم ’’شہید بوصبیع مبارک پرائمری اسکول‘‘ میں پانچویں جماعت کی طالبہ نہاد بوصبیع روزانہ اسکول پہنچتی ہیں۔ ان کے لیے کلاس روم، اساتذہ اور دیگر بنیادی سہولیات معمول کے مطابق دستیاب ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چند برس قبل اسی اسکول میں تقریباً 12 بچے زیرِ تعلیم تھے، لیکن طلبہ کے پرائمری تعلیم مکمل کرنے اور مڈل اسکولوں میں منتقل ہونے کے بعد تعداد بتدریج کم ہوتی گئی۔ نہاد بھی پہلے اپنی بہن کے ساتھ اسی اسکول میں پڑھتی تھیں، تاہم بہن کے مڈل اسکول منتقل ہونے کے بعد وہ واحد طالبہ رہ گئیں۔
تعلیمی حکام نے نہاد کی تعلیم متاثر ہونے سے بچانے کے لیے انہیں کسی دوسرے اسکول منتقل کرنے کے بجائے اسی ادارے میں تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اسکول میں اگرچہ صرف ایک طالبہ ہے، لیکن تدریسی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ نہاد کو ریاضی، عربی، فرانسیسی، انگریزی اور جسمانی تربیت سمیت مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اسکول کے پرنسپل، دو اساتذہ، ایک باورچی اور ایک چوکیدار بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
نہاد کا کہنا ہے کہ اکیلے پڑھنے کے باوجود انہیں تعلیم کے حوالے سے کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں۔ وہ مستقبل میں ریاضی کی استاد بننے کی خواہش رکھتی ہیں۔
اس منفرد صورتحال کے ساتھ ساتھ علاقے میں آبادی کم ہونے اور لوگوں کے دوسرے مقامات پر منتقل ہونے کا مسئلہ بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ نہاد کے والد کے مطابق ان کا ایک چھوٹا بیٹا بھی اسکول جانے کی عمر کو پہنچ چکا ہے، تاہم اسکول میں طلبہ کی انتہائی کم تعداد کے باعث ادارے کے مستقبل پر سوالات موجود ہیں۔
مقامی تعلیمی حکام کے مطابق موجودہ تعلیمی سال میں نہاد کی تعلیم جاری رکھی جائے گی، جبکہ سیشن مکمل ہونے کے بعد اسکول کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
یوں الجزائر کا یہ پہاڑی اسکول اس وقت ایک منفرد منظر پیش کر رہا ہے جہاں ایک ہی طالبہ کے لیے تعلیمی سرگرمیاں، تدریسی عملہ اور اسکول کا روزمرہ نظام برقرار ہے۔









