
گھر میں کھانا پکاتے ہوئے گرم تیل کے چھینٹے پڑنا، چائے یا گرم پانی گر جانا اور بھاپ سے جھلس جانا ایسے حادثات ہیں جو اچانک پیش آسکتے ہیں۔ ایسے موقع پر فوری اور درست ابتدائی طبی امداد جلد کو مزید نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق جلنے کی صورت میں متاثرہ حصے کو فوراً گرمی کے منبع سے دور کرکے تقریباً 20 منٹ تک ٹھنڈے بہتے پانی کے نیچے رکھنا چاہیے۔ برف یا انتہائی ٹھنڈا پانی براہِ راست جلد پر استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
اگر ہاتھ یا بازو پر انگوٹھی، گھڑی، چوڑی یا کوئی دوسری تنگ چیز موجود ہو تو سوجن آنے سے پہلے اسے احتیاط سے اتار دینا بہتر ہے۔
جلنے کے بعد متاثرہ جگہ کو صاف، نرم اور ایسی پٹی یا کپڑے سے ڈھانپا جاسکتا ہے جو زخم کے ساتھ چپکے نہیں۔ اگر جلد پر چھالا بن جائے تو اسے پھوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
بچوں کے جلنے پر خصوصی احتیاط
بچوں کی جلد نسبتاً حساس ہوتی ہے، اس لیے گرم چائے، پانی یا کسی دوسرے مشروب سے ہونے والے جلنے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
بچے کے متاثرہ حصے کو فوری طور پر ٹھنڈے بہتے پانی کے نیچے تقریباً 20 منٹ تک رکھیں۔ اگر جلا ہوا حصہ بڑا ہو، چھالے نمایاں ہوں یا جسم کے حساس حصے متاثر ہوئے ہوں تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
بھاپ سے جلنے کی صورت میں
پریشر ککر یا گرم برتن سے نکلنے والی بھاپ بھی شدید جلن کا سبب بن سکتی ہے۔ متاثرہ شخص کو فوراً بھاپ کے منبع سے دور کریں اور جلی ہوئی جگہ کو ٹھنڈے بہتے پانی سے ٹھنڈا کریں۔
اگر چہرہ متاثر ہوا ہو، سوجن نمایاں ہو، جلن شدید ہو یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو فوری طبی امداد حاصل کی جانی چاہیے۔
ٹوتھ پیسٹ، ہلدی اور گھی سے گریز کریں
جلنے کے بعد بعض لوگ فوری طور پر ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، نمک، گھی یا دیگر گھریلو اشیا متاثرہ جگہ پر لگا دیتے ہیں۔ ماہرین ایسے غیر ثابت شدہ ٹوٹکوں سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں، خصوصاً جب جلد پر چھالا پڑ گیا ہو یا جلد متاثر ہوچکی ہو۔
ایسی چیزیں زخم کو مزید آلودہ کرسکتی ہیں اور بعد میں طبی معائنے یا علاج میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔
کب فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
ہر قسم کا جلنا ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اگر زخم بڑا یا گہرا ہو، بڑے چھالے بن جائیں، چہرہ یا دیگر حساس حصے متاثر ہوں، یا متاثرہ شخص کو سانس لینے میں دشواری ہو تو گھر پر علاج کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کی جانی چاہیے۔
جلنے کی صورت میں بنیادی اصول یہی ہے کہ گھبراہٹ میں کوئی گھریلو چیز لگانے کے بجائے پہلے متاثرہ حصے کو مناسب طریقے سے ٹھنڈا کیا جائے اور زخم کی شدت کے مطابق طبی مدد حاصل کی جائے۔









