مکہ معاہدے کے بعد بڑا فیصلہ؟ تین طاقتور ممالک کے عسکری سربراہان ایک میز پر

0
10
مکہ معاہدے کے بعد بڑا فیصلہ؟ تین طاقتور ممالک کے عسکری سربراہان ایک میز پر

ریاض: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اعلیٰ عسکری حکام کا اہم اجلاس سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوا، جس میں سعودی عرب کو درپیش موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق اور سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف شریک ہوئے۔
ملاقات میں مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے سعودی مسلح افواج کی جانب سے خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کو بھی سراہا۔
تینوں ممالک کے عسکری حکام نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، باہمی رابطوں میں بہتری اور دفاعی صلاحیتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ معاہدۂ مکہ کے تحت طے پانے والے مشترکہ دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں گے۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق ملاقات میں فوجی سربراہان کے اجلاس کے نتائج اور مشترکہ دفاعی کوششوں پر گفتگو ہوئی۔
دوسری جانب سعودی حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ سعودی اتحادی افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ریاض کی سمت آنے والے دو ڈرونز اور خمیس مشیط کی جانب فائر کیا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق آرمکو کی ایک ریفائنری کو نشانہ بنانے کی کوشش کے دوران آگ بھی لگی، جبکہ جازان میں شہریوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے سائرن فعال کیے گئے۔
اجلاس کے اختتام پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے عسکری رہنماؤں نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

Leave a reply