امریکا کا ایرانی ایئرلائنز کے خلاف عالمی پابندیوں کا اعلان

واشنگٹن: امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے دنیا بھر میں ایرانی کمرشل ایئرلائنز کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جن کا اطلاق 23 ستمبر سے ہونے کا بتایا گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ایرانی طیاروں کو سہولیات فراہم کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں، ایئرپورٹس اور آپریٹرز کو بھی امریکی مالیاتی نظام سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایرانی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے، لینڈنگ کی اجازت دینے یا ٹکٹوں کی فروخت میں معاونت کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے ایسے متعدد اداروں اور افراد کی نشاندہی کر لی ہے جو ایران کے ساتھ مالی اور تجارتی تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا ان سہولت کاروں کے خلاف اقدامات کرے گا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ نئی پابندیوں کے معاملے پر چین کے مالیاتی حکام سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی حکام مختلف ممالک کے ساتھ عوامی بیانات کے بجائے سفارتی سطح پر بات چیت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن کے سامنے کئی آپشنز موجود ہیں، جن میں ایران پر مزید معاشی دباؤ، مذاکرات اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ تاہم امریکی صدر نے کسی حتمی فیصلے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا آئندہ اجلاس بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ایرانی قیادت کے لیے ویزوں کی منظوری کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے نیویارک جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا ملنا ایران کا قانونی حق ہے، اسے امریکی رعایت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر ایرانی حکام کے مطابق تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے سات نکاتی شرائط بھی قطر کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں۔ ایران اب امریکی ردعمل کا منتظر ہے۔








