زمین کی گہرائی میں چھپی حیران کن دنیا

0
7
زمین کی گہرائی میں چھپی حیران کن دنیا

دنیا کی سطح کے نیچے ایک ایسی پراسرار دنیا بھی موجود ہے جہاں روشنی کا گزر تقریباً ناممکن، درجہ حرارت انتہائی کم اور زندگی کی شکلیں عام دنیا سے بالکل مختلف دکھائی دیتی ہیں۔

ماہرینِ غار شناسی کے مطابق مغربی قفقاز کے گاگرا پہاڑی سلسلے میں واقع ویریوو کینا دنیا کے سب سے گہرے غاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس زیرِ زمین نظام کی گہرائی 2 ہزار میٹر سے بھی زیادہ ہے، تاہم دنیا کے گہرے ترین غار کے ریکارڈ پر مختلف اوقات میں ماہرین کے درمیان اختلاف بھی رہا ہے۔

ویریوو کینا جارجیا کے متنازع خطے ابخازیا میں واقع ہے۔ یہ غار چونے کے پتھر سے بنی ایسی زیرِ زمین ساخت کا حصہ ہے جسے پانی کے طویل عرصے تک چٹانوں میں راستے بناتے رہنے کے نتیجے میں تشکیل پانے والا نظام سمجھا جاتا ہے۔

گہرائی میں جانے کے ساتھ زندگی بھی بدل جاتی ہے

اس غار کی سب سے حیران کن خصوصیات میں سے ایک یہاں موجود جاندار ہیں۔ مکمل تاریکی میں رہنے والے بعض جانوروں نے اپنے ماحول کے مطابق ایسی جسمانی خصوصیات اختیار کرلی ہیں جن کی مدد سے وہ روشنی کے بغیر حرکت کرسکتے ہیں۔

کچھ جانداروں میں آنکھیں موجود نہیں ہوتیں، جبکہ بعض کے جسم پر لمبے اینٹینا یا حساس بال ہوتے ہیں جو اردگرد کی حرکت اور ارتعاش کو محسوس کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

غار کے اندر درجہ حرارت بھی انتہائی کم رہتا ہے اور گہرائی بڑھنے کے ساتھ ماحول مزید سخت ہوتا جاتا ہے۔

2 ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی

جنوری 2026 میں سامنے آنے والی پیمائش کے مطابق ویریوو کینا کی گہرائی تقریباً 2,212 میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسی خطے کی مشہور کروبیرا غار کی گہرائی تقریباً 2,199 میٹر بتائی گئی۔

اسی معمولی فرق کی وجہ سے دونوں غاروں کے درمیان دنیا کے گہرے ترین غار کا اعزاز ایک دلچسپ موضوع بنا ہوا ہے، جبکہ نئی مہمات اور پیمائشیں مستقبل میں ریکارڈ تبدیل کرسکتی ہیں۔

ویریوو کینا کی دریافت کئی دہائیاں قبل ہوئی تھی۔ ابتدا میں اسے S-115 کے نام سے شناخت کیا گیا، بعد ازاں غاروں کی تلاش سے وابستہ ماہر الیگزینڈر ویروو کین کے نام پر اسے موجودہ نام دیا گیا۔

اتنی گہری غاریں بنتی کیسے ہیں؟

ماہرین کے مطابق گاگرا پہاڑی سلسلے کی چٹانی ساخت ان گہری غاروں کی تشکیل کے لیے سازگار ہے۔ چونے کے پتھر میں پانی مسلسل راستے بناتا رہا، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین گزرگاہیں، شگاف اور وسیع غاریں وجود میں آئیں۔

اس خطے میں چٹانوں کی مخصوص ترتیب پانی کو نسبتاً آسانی سے نیچے کی جانب جانے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ لاکھوں برس کے دوران جاری رہنے والے اس قدرتی عمل نے زمین کے اندر ایک پیچیدہ اور انتہائی گہرا نظام تشکیل دے دیا۔

ویریوو کینا اور اس جیسے غار آج بھی سائنسدانوں کے لیے قدرتی تحقیق کی ایک غیر معمولی تجربہ گاہ ہیں، جہاں زمین کی ساخت، زیرِ زمین پانی اور انتہائی مشکل ماحول میں زندگی کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

Leave a reply