ڈارک میٹر کی تلاش میں سائنس دانوں کو ممکنہ اہم سراغ مل گیا

0
23
ڈارک میٹر کی تلاش میں سائنس دانوں کو ممکنہ اہم سراغ مل گیا

امریکی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا میں زمین کے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر نیچے قائم ایک سائنسی تجربہ گاہ میں تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ایسا غیر معمولی سگنل ریکارڈ کیا ہے جو ڈارک میٹر کی موجودگی سے متعلق ایک اہم اشارہ ہو سکتا ہے۔

یہ تجربہ بلیک ہلز کے علاقے میں ایک پرانی سونے کی کان کے اندر قائم سانفورڈ انڈر گراؤنڈ ریسرچ فیسیلٹی میں کیا جا رہا ہے، جہاں LUX-ZEPLIN (LZ) نامی منصوبے کے ذریعے ڈارک میٹر کے ممکنہ ذرات کی تلاش جاری ہے۔

تحقیق کے لیے تقریباً 10 ٹن مائع زینان استعمال کیا گیا۔ سائنس دان ایسے انتہائی نایاب ذراتی تعاملات کا سراغ لگاتے ہیں جن میں کسی نامعلوم ذرّے کے زینان کے ایٹمی مرکزے سے ٹکرانے کے نتیجے میں روشنی کا معمولی سا اخراج اور مرکزے کی حرکت پیدا ہو سکتی ہے۔

حالیہ مشاہدے میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے محققین کی توجہ حاصل کی۔ اس کی خصوصیات ڈارک میٹر کے ایک معروف نظریاتی امیدوار، یعنی WIMP (Weakly Interacting Massive Particle)، سے متوقع تعامل سے مطابقت رکھتی ہیں۔

تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ اس ایک مشاہدے کو ڈارک میٹر کی حتمی دریافت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ محققین کے مطابق اس سگنل کی دیگر ممکنہ سائنسی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، جنہیں مسترد کرنا ضروری ہے۔

ڈارک میٹر جدید فلکیات کا ایک بڑا معمّا ہے۔ سائنس دان براہِ راست اسے دیکھ نہیں سکتے کیونکہ یہ روشنی کو خارج یا منعکس نہیں کرتا، لیکن اس کی کششِ ثقل کے اثرات کہکشاؤں اور کائناتی ساخت پر واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ موجودہ سائنسی اندازوں کے مطابق کائنات میں موجود مادے کا بڑا حصہ اسی نامعلوم مادے پر مشتمل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کے تجربات میں اسی نوعیت کے مزید قابلِ اعتماد سگنلز مل جاتے ہیں تو یہ ڈارک میٹر کی حقیقت اور اس کی ساخت کو سمجھنے میں غیر معمولی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

فی الحال LZ تجربے سے وابستہ سائنس دان ڈیٹا کا مزید تجزیہ کر رہے ہیں۔ آنے والے مشاہدات ہی یہ طے کریں گے کہ موجودہ سگنل واقعی ڈارک میٹر کی جانب اشارہ کرتا ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی دوسرا سائنسی مظہر موجود ہے۔

Leave a reply