پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن، مختلف شہروں میں کاروبار بند، کراچی میں 6 افراد گرفتار

0
0
پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن، مختلف شہروں میں کاروبار بند، کراچی میں 6 افراد گرفتار

لاہور/کراچی: پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ کراچی، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کئی علاقوں میں مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند رہے، جبکہ بعض مقامات پر احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

کراچی کے کورنگی کراسنگ کے قریب نامعلوم افراد نے سڑک پر ٹائر اور دیگر سامان نذر آتش کیا، جبکہ دو موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تھانے منتقل کردیا گیا ہے۔ کورنگی کراسنگ پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی اور ٹریفک کی روانی بحال کردی گئی۔ صفورہ چورنگی اور گردونواح میں ہوائی فائرنگ کی اطلاعات کے بعد بھی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔

جماعت اسلامی کے مطابق ہڑتال کا بنیادی مقصد پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرانا اور مہنگائی کے اثرات کم کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں اور لیوی ٹیکس ان پر مزید مالی بوجھ ڈال رہا ہے۔

حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات متوقع

ذرائع کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات آج لاہور میں ہونے کا امکان ہے۔ جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، جبکہ حکومتی وفد چار ارکان پر مشتمل ہوگا۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، سعد رفیق اور سلمان رفیق شامل ہیں۔ حکومتی وفد کی جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

کراچی میں بیشتر مارکیٹیں بند

کراچی میں مختلف تاجر تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ کلفٹن سے صدر تک کئی مارکیٹیں اور مالز بند رہے، جبکہ بولٹن مارکیٹ اور اطراف کے تجارتی علاقوں میں بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

تاجر رہنماؤں کے مطابق ہڑتال کو پرامن رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں دکانیں زبردستی بند کرانے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ میڈیسن مارکیٹ اور ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن سمیت کچھ تنظیموں نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا، جبکہ بعض مارکیٹوں کو دوپہر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، تاہم شہریوں کو خوف زدہ کرنے یا املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں میں بھی ہڑتال

کشمور، میرپورخاص اور ٹنڈوالہ یار سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے کئی مقامات پر ریلیاں نکالیں اور تاجروں سے ہڑتال میں تعاون کی اپیل کی۔

اوکاڑہ میں بھی بڑی تعداد میں دکانیں بند رہیں۔ صدر بازار، گول چوک اور کچہری بازار سمیت اہم تجارتی مراکز میں کاروباری سرگرمیاں نمایاں طور پر کم رہیں۔ بعض مقامات پر دکانیں بند رکھنے کے معاملے پر تاجروں اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

ہڑتال کے باعث اوکاڑہ میں عدالتوں میں وکلا کی حاضری بھی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور میں پولیس نے مختلف شاہراہوں پر سیکیورٹی بڑھاتے ہوئے اضافی نفری تعینات کی، جبکہ واٹر کینن بھی طلب کرلی گئی۔ جماعت اسلامی کی مقامی قیادت نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی اور حکومت سے طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

خیبرپختونخوا میں متعدد اضلاع میں شٹر ڈاؤن

پشاور، مردان، چارسدہ، صوابی، خیبر اور کوہاٹ سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی ہڑتال کی گئی۔ کئی بازار بند رہے اور مختلف مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں۔

جماعت اسلامی کے صوبائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے ساتھ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے مسائل بھی شامل ہیں۔

کوئٹہ میں ہڑتال پر تاجروں میں اختلاف

کوئٹہ میں جماعت اسلامی نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی، تاہم مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بار بار کی ہڑتالوں سے صوبے کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت اور کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہوتی ہیں۔

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے تاجروں اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے احتجاج کے بجائے مذاکرات اور مثبت راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔

جماعت اسلامی کے مطالبات

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم یا کم کرے، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی لائے، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اضافی بلنگ کا خاتمہ کرے اور مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

جماعت اسلامی کی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔

Leave a reply