بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کون سا آٹا بہتر ہے؟ ماہرین نے اہم نکات بتا دیے

روٹی پاکستانی گھروں میں روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے، تاہم ماہرین کے مطابق روٹی کی غذائیت کا انحصار اس میں استعمال ہونے والے آٹے کی قسم پر بھی ہوتا ہے۔ مختلف آٹوں میں فائبر، پروٹین، کیلشیم اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار مختلف ہوتی ہے، جس کے باعث صحت پر ان کے اثرات بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔
میدہ:
میدہ عموماً کم فائبر والی غذاؤں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے تیار ہونے والی اشیا خون میں گلوکوز تیزی سے بڑھا سکتی ہیں، جبکہ ضرورت سے زیادہ استعمال وزن بڑھنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے متوازن غذا میں میدے کا استعمال محدود رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
گندم کا آٹا:
گندم غذائیت کا اچھا ذریعہ ہے، لیکن آٹے کی تیاری کے دوران اگر چوکر اور دیگر حصے زیادہ مقدار میں نکال دیے جائیں تو فائبر کم ہو سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں نسبتاً کم صاف کیا ہوا یا مکمل اناج والا آٹا زیادہ فائبر فراہم کرتا ہے۔
باجرا اور جوار:
باجرا اور جوار فائبر سے بھرپور اناج ہیں اور قدرتی طور پر گلوٹین فری ہوتے ہیں۔ ان میں موجود فائبر ہاضمے اور خون میں شوگر کے بہتر نظم میں معاون ہو سکتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مقدار اور مجموعی غذا بھی اہم ہے۔
بیسن یا چنے کا آٹا:
چنے کا آٹا پروٹین اور فائبر فراہم کرتا ہے اور اس سے تیار کی جانے والی روٹی نسبتاً زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس دے سکتی ہے۔ اسے گندم یا دیگر آٹوں کے ساتھ ملا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
راگی:
راگی کیلشیم اور فائبر سمیت متعدد غذائی اجزا کا ذریعہ ہے۔ اسے متوازن غذا کا حصہ بنایا جائے تو ہڈیوں کی صحت اور مجموعی غذائیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی ایک آٹے کو ہر فرد کے لیے ’’سب سے بہترین‘‘ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ غذائی ضرورت عمر، وزن، جسمانی سرگرمی اور صحت کی صورتحال کے مطابق بدلتی ہے۔ ذیابیطس، موٹاپے یا کسی دوسری بیماری میں مبتلا افراد کو خوراک میں نمایاں تبدیلی سے پہلے ڈاکٹر یا مستند غذائی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔









