
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کا کرغزستان کا دورہ مکمل ہوگیا، دورے کے اختتام پر دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے تجارت، توانائی، دفاع، قانونی معاونت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کرغز قیادت کے ساتھ ملاقاتیں مثبت اور نتیجہ خیز رہیں۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان محدود تجارتی حجم میں نمایاں اضافے کی تجویز پیش کی، جسے کرغزستان کی قیادت نے بھی سراہا۔
دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو موجودہ سطح سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور کرغزستان تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، کان کنی، زراعت، خوراک، ٹیکسٹائل اور ادویہ سازی سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
دورے کے دوران ٹرانزٹ تجارت کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ معاہدے کے تحت پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے کرغزستان کے لیے تجارتی اور ترسیلی سہولتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
دونوں ممالک نے ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت سمیت بجلی، پن بجلی، قابلِ تجدید توانائی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور طبی تعلیم کے شعبوں میں بھی مختلف معاہدوں کی توثیق کی گئی، جبکہ قانونی تعاون کے تحت قیدیوں کے تبادلے اور فوجداری مقدمات میں باہمی قانونی معاونت سے متعلق معاہدے بھی کیے گئے۔
دفاعی تعلقات کے حوالے سے پاکستان اور کرغزستان نے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
دونوں ملکوں کے درمیان شہری سطح پر روابط بڑھانے کے لیے لاہور اور اوش کو سسٹر سٹیز بنانے کا معاہدہ بھی طے پایا۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور کرغزستان نے تنازعات کے پرامن حل اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان نے عالمی ماحولیاتی مسائل اور پہاڑی علاقوں کی ترقی سے متعلق کرغزستان کے اقدامات کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
حکام کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔









