ایس سی او سربراہی اجلاس: پاکستان نے صدارت سنبھال لی، وزیراعظم کا امن و علاقائی تعاون پر زور

0
24
ایس سی او سربراہی اجلاس: پاکستان نے صدارت سنبھال لی، وزیراعظم کا امن و علاقائی تعاون پر زور

بشکیک: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں پاکستان نے تنظیم کی سربراہی آئندہ ایک سال کے لیے سنبھال لی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے اعلامیے پر دستخط بھی کیے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایس سی او کے قیام کو 25 برس مکمل ہونا تنظیم کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برسوں میں یہ پلیٹ فارم علاقائی تعاون، امن اور استحکام کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال جغرافیائی کشیدگی، تنازعات اور مختلف نوعیت کے چیلنجز سے متاثر ہے، ایسے میں ایس سی او کے رکن ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔

شہباز شریف کے مطابق پاکستان تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات اور عالمی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے فلسطین کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی بحران سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔ عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

جنوبی ایشیا کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے بغیر خطہ اپنی معاشی اور ترقیاتی صلاحیت مکمل طور پر بروئے کار نہیں لا سکتا۔ باہمی اعتماد، تعاون اور رابطہ کاری خطے کی خوشحالی کے لیے ضروری ہیں۔

پانی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پانی خطے کی بقا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا قابل قبول نہیں، جبکہ بین الاقوامی معاہدوں پر ان کی روح اور طے شدہ شرائط کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے دہشت گردی کو خطے کے بڑے خطرات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی اور معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

شہباز شریف نے علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں محفوظ توانائی اور تجارتی راستوں کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی ممالک کو بحیرہ عرب سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

وزیراعظم نے ایس سی او کی ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر عملی پیش رفت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے طویل مدتی اہداف کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ایس سی او ترقیاتی بینک کے قیام کو بھی علاقائی اقتصادی تعاون کے لیے اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق مشترکہ کوششیں خطے میں امن، استحکام اور معاشی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

ایس سی او اجلاس کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہوا، جہاں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں۔ وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر تجارت جام کمال خان بھی شامل ہیں۔

بشکیک آمد کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات، تحمل اور سفارتی رابطوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں چین، روس اور وسطی ایشیا کی چار ریاستوں نے کیا تھا۔ ابتدائی طور پر تنظیم کا بنیادی فوکس علاقائی سلامتی اور سکیورٹی تعاون تھا، تاہم وقت کے ساتھ اس کے دائرہ کار میں اقتصادی اور علاقائی تعاون بھی شامل ہوا۔

موجودہ طور پر ایس سی او میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان سمیت 10 مستقل رکن ممالک شامل ہیں، جبکہ کئی دیگر ممالک تنظیم کے ساتھ مختلف شراکت داری کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔

Leave a reply