ایک پھیپھڑا نہ ہو تو کیا انسان معمول کی زندگی گزار سکتا ہے؟

0
24
ایک پھیپھڑا نہ ہو تو کیا انسان معمول کی زندگی گزار سکتا ہے؟

انسان کے جسم میں دو پھیپھڑے سانس کے عمل کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم طبی ماہرین کے مطابق ایک پھیپھڑا ضائع ہونے یا سرجری کے ذریعے نکال دیے جانے کے باوجود انسان زندگی جاری رکھ سکتا ہے۔

پھیپھڑوں کا بنیادی کام خون کو آکسیجن فراہم کرنا اور جسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنا ہے۔ اگر کسی وجہ سے ایک پھیپھڑا نکالنا پڑ جائے تو باقی پھیپھڑا وقت کے ساتھ جسم کی ضروریات کے مطابق اپنی کارکردگی کو بہتر انداز میں استعمال کرنے لگتا ہے، جبکہ جسم بھی اس تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرتا ہے۔

ایسے بہت سے افراد ایک پھیپھڑے کے ساتھ روزمرہ کے کام، ملازمت، سفر اور دیگر معمول کی سرگرمیاں انجام دینے کے قابل ہوتے ہیں۔ تاہم جسمانی کارکردگی ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتی۔

ایک پھیپھڑے کے ساتھ رہنے والے فرد کو تیز رفتار چلنے، دوڑنے، سیڑھیاں چڑھنے یا سخت جسمانی مشقت کے دوران پہلے کی نسبت جلد سانس پھولنے اور تھکن کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کی شدت کا انحصار باقی پھیپھڑے کی صحت، عمر، جسمانی فٹنس اور مجموعی صحت پر ہوتا ہے۔

بعض سنگین بیماریوں یا چوٹوں کی صورت میں ڈاکٹر ایک پھیپھڑا نکالنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ پھیپھڑے کو مکمل طور پر نکالنے کے آپریشن کو طبی اصطلاح میں نیومونیکٹومی (Pneumonectomy) کہا جاتا ہے۔

یہ ایک بڑی سرجری ہوتی ہے اور اس کے بعد مریض کو صحت یاب ہونے میں کئی ہفتے یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ آپریشن کے بعد سانس کی مشکلات، انفیکشن، خون بہنے، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی اور خون جمنے جیسی پیچیدگیوں کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک پھیپھڑے کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن ضرور ہے، لیکن اسے دو پھیپھڑوں کے ساتھ مکمل طور پر یکساں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کچھ افراد تقریباً معمول کی زندگی گزارتے ہیں، جبکہ دوسروں کو جسمانی سرگرمیوں میں اپنی حدود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔

کسی مریض کے لیے ورزش، کام یا روزمرہ سرگرمیوں کی مناسب سطح کا تعین اس کی مخصوص طبی حالت کو دیکھتے ہوئے معالج ہی بہتر طور پر کرسکتا ہے۔

Leave a reply