پمز اسپتال میں آتشزدگی، سی ڈی اے رپورٹ میں حفاظتی انتظامات ناکافی قرار

0
19
پمز اسپتال میں آتشزدگی، سی ڈی اے رپورٹ میں حفاظتی انتظامات ناکافی قرار

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں پیش آنے والی آتشزدگی کے حوالے سے سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں اسپتال میں آگ سے نمٹنے اور مریضوں و عملے کے تحفظ کے انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کو صبح 6 بج کر 55 منٹ پر واقعے کی اطلاع ملی، جس کے تقریباً چھ منٹ بعد پہلی گاڑی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ تاہم ریسکیو آپریشن کے دوران فائر فائٹرز کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سی ڈی اے کی رپورٹ میں اسپتال کے فائر سیفٹی اور انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق انتظامات کو مقررہ معیار کے مطابق مؤثر نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تاہم پمز انتظامیہ نے سی ڈی اے کے مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر کے مطابق اسپتال میں فائر سیفٹی کا مناسب نظام موجود تھا اور نرسری میں آکسیجن سلنڈرز کی موجودگی کے باوجود ریسکیو کارروائی میں کوئی بڑی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔

واقعے کے بعد وفاقی حکومت نے بھی کارروائی کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد نومولود جان کی بازی ہار گئے۔ مختلف سرکاری ذرائع کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اختلاف سامنے آیا ہے، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے خواتین، بچوں اور مردوں سمیت 19 افراد کو بحفاظت اسپتال سے باہر نکالا۔

پمز انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت متعلقہ یونٹ میں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملہ موجود تھا۔ انتظامیہ نے بتایا کہ ایک خاتون ڈاکٹر نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو بچانے کی کوشش کی۔

پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بچوں کے اغوا کے واقعات کے باعث نرسری میں داخلے پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات کے دوران اگر کسی فرد کی غفلت یا ذمہ داری ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے جسدِ خاکی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

واقعے کی تحقیقات میں اب بنیادی توجہ آتشزدگی کی اصل وجہ، فائر سیفٹی انتظامات، ریسکیو آپریشن میں پیش آنے والی مشکلات اور ممکنہ غفلت کے تعین پر مرکوز ہے۔

Leave a reply