دو دن میں بننے والی پراسرار جھیل، کسی بھی وقت کیا ہوسکتا ہے؟

0
27
دو دن میں بننے والی پراسرار جھیل، کسی بھی وقت کیا ہوسکتا ہے؟

کھٹمنڈو: چین نے نیپال کو خبردار کیا ہے کہ دریائے لھینڈے کے بالائی حصے میں بننے والی ایک نئی عارضی جھیل کا قدرتی بند کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
چینی حکام کے مطابق جھیل کا پانی گزشتہ دو روز کے دوران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے، جسے جھیل کے دباؤ میں اضافے کی ممکنہ علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جھیل میں پانی کی مقدار محدود ہونے کے باعث بند ٹوٹنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا امکان کم ہے۔
چین نے یہ صورتحال نیپال کی وزارت خارجہ کے علم میں لاتے ہوئے زیریں علاقوں میں رہنے والے افراد کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ عارضی جھیل رواں ہفتے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں برفانی تودہ گرنے اور اس کے بعد آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں بنی۔ برف، پتھروں اور دیگر ملبے نے قدرتی رکاوٹ پیدا کردی، جس کے پیچھے پانی جمع ہوکر جھیل کی شکل اختیار کر گیا۔
جھیل چوچن دریا اور نیپال کی جانب بہنے والے پوریپو دریا کے قریب قائم ہوئی ہے۔ چینی وزارتِ آبی وسائل کے مطابق جمعے تک جھیل میں تقریباً 25 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہوچکا تھا، جبکہ پانی کی سطح میں مزید اضافے کا سلسلہ جاری تھا۔
چینی ماہرین نے ممکنہ صورتحال کا اندازہ لگانے کے لیے سیلابی ماڈل بھی تیار کیا ہے۔ اندازے کے مطابق اگر عارضی بند کا کچھ حصہ ٹوٹا تو دریائے نظام میں پانی کا زیادہ سے زیادہ بہاؤ تقریباً 500 مکعب میٹر فی سیکنڈ تک پہنچ سکتا ہے، تاہم اسے دریا کے قدرتی کناروں کے اندر رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
چین نے یہ بھی اندازہ لگایا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں جھیل میں مزید تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہوسکتا ہے۔ علاقے کی نگرانی کے لیے ڈرونز اور سیٹلائٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق جمعے کی دوپہر تک جھیل کا پانی لھینڈے کھولا اور تریشولی دریاؤں کی جانب بہنا شروع ہوگیا تھا، جبکہ صورتحال سے پیدا ہونے والے خطرے کو اس وقت قابلِ انتظام قرار دیا گیا۔
دوسری جانب نیپال کے حکام ممکنہ جھیل پھٹنے اور نئے سیلاب کے خطرے کے پیش نظر صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ملک پہلے ہی رواں ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب سے شدید متاثر ہے، جس میں اب تک کم از کم 587 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ تبت میں بھی سیلاب اور متعلقہ واقعات کے نتیجے میں کم از کم 7 ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

Leave a reply