
نیدرلینڈز کے طلبہ کی تیار کردہ منفرد گاڑی نے دشوار گزار علاقوں میں 800 کلومیٹر سے زائد سفر مکمل کرلیا
نیدرلینڈز کے طلبہ کی تیار کردہ شمسی توانائی سے چلنے والی منفرد طبی گاڑی ’اسٹیلا جووا‘ نے کینیا میں عملی آزمائش کے دوران کامیاب کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسے دور دراز علاقوں تک طبی سہولتیں اور ضروری توانائی پہنچانا ہے جہاں بجلی اور صحت کی بنیادی سہولتیں محدود ہیں۔
اسٹیلا جووا کو عام ایمبولینس کے برعکس بنیادی طور پر مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ گاڑی میں ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور ویکسین محفوظ رکھنے کے لیے کولنگ سسٹم سمیت مختلف طبی آلات نصب کیے گئے ہیں، جنہیں شمسی توانائی سے چلایا جاسکتا ہے۔
گاڑی کی چھت پر موجود سولر پینل سفر کے دوران بجلی پیدا کرتے ہیں، جبکہ رکنے کی صورت میں اضافی پینل باہر نکال کر شمسی توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھائی جاسکتی ہے۔
طلبہ کی ٹیم نے کینیا میں مقامی صحت کے ادارے کے تعاون سے گاڑی کو مختلف حالات میں آزمایا۔ آزمائش کے دوران اس نے 800 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کیا اور ایسے صحت مرکز تک بھی پہنچی جہاں بجلی کی مستقل سہولت دستیاب نہیں۔
دشوار گزار اور کچی سڑکوں پر کئی گھنٹوں کے سفر کے باوجود گاڑی کی کارکردگی توقعات کے مطابق رہی۔ تجربے کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ جب گاڑی ایک مقام پر کھڑی تھی اور اس کے طبی آلات بیک وقت استعمال کیے جارہے تھے تو سولر پینل ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کر رہے تھے۔
اس کامیابی سے یہ امکان سامنے آیا ہے کہ مناسب حالات میں ایسی گاڑیوں کو روایتی ایندھن یا مستقل بجلی کے کنکشن کے بغیر بھی دور دراز علاقوں میں طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اگرچہ تجربے کے دوران طبی آلات حقیقی مریضوں پر استعمال نہیں کیے گئے، تاہم ٹیم کے مطابق ان سہولتوں کی مدد سے مختصر مدت میں بڑی تعداد میں افراد کو طبی خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں۔
کینیا کے صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے محروم علاقوں میں اس نوعیت کی ٹیکنالوجی خاص طور پر اہم ہوسکتی ہے۔ بجلی کی کمی کے باعث کئی بنیادی طبی خدمات متاثر ہوتی ہیں، جن میں خواتین کے لیے الٹراساؤنڈ جیسی سہولتیں بھی شامل ہیں۔
’اسٹیلا جووا‘ تیار کرنے والی سولر ٹیم آئندھوون میں 23 طلبہ شامل ہیں۔ یہ ٹیم اس سے پہلے بھی شمسی توانائی سے چلنے والی مختلف گاڑیاں تیار کرچکی ہے۔ طلبہ کا مقصد ماحول دوست ٹیکنالوجی کو عملی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنا ہے۔
ٹیم اب گاڑی کو نیدرلینڈز واپس لے جانے کی تیاری کر رہی ہے، تاہم اس کے ارکان چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ صرف تعلیمی تجربے تک محدود نہ رہے بلکہ مستقبل میں اسے حقیقی دنیا کے طبی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ قابلِ تجدید توانائی کو صحت کے شعبے سے جوڑنے کی ایک عملی مثال پیش کرتا ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر ایسی گاڑیوں کی تیاری اور دور دراز علاقوں میں ان کے استعمال کے لیے مالی وسائل اور مقامی نظام کی مضبوطی اب بھی اہم چیلنجز رہیں گے۔









