عمران خان کے علاج پر حکومت اور سپریم کورٹ آمنے سامنے

0
18
عمران خان کے علاج پر حکومت اور سپریم کورٹ آمنے سامنے

وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ سرکاری اسپتال میں کرایا جائے اور عدالتی حکم کے بعض نکات میں وضاحت کی جائے۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ عدالتی فیصلے کا قانونی اور انتظامی سطح پر جائزہ لینے کے بعد متعلقہ حکام اور قانونی ٹیم سے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سزا یافتہ قیدیوں کے علاج کے لیے قانون میں پہلے ہی ایک طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت میڈیکل بورڈ مریض کی حالت دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ علاج جیل میں ہوگا یا اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
وزیر قانون کے مطابق اگر قیدی کو جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہو تو عمومی طور پر اسے سرکاری اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی اسپتال میں علاج کا انتظام اس وقت کیا جانا چاہیے جب یہ واضح ہو کہ سرکاری طبی سہولیات مطلوبہ علاج فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ سے درخواست کرے گی کہ عدالتی حکم کے بعض حصوں میں مناسب تبدیلی کی جائے تاکہ قانونی ابہام ختم ہوسکے۔ ان کے مطابق عدالت کے حکم کے تحت ضرورت پڑنے پر مختلف اداروں کے ماہر ڈاکٹرز کو بھی طبی عمل میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنے قائد کو جیل سے باہر لانے کے لیے غیر معمولی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے عمران خان کو مکمل اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کیے جانے کی حمایت کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اس تحریری فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں عدالت نے عمران خان کی صحت، علاج اور اہل خانہ سے ملاقاتوں سے متعلق درخواست پر احکامات جاری کیے تھے۔
عدالت نے عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے، مکمل طبی ریکارڈ پیش کرنے اور ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔ بورڈ میں جنرل سرجن، ماہر امراضِ داخلی، ماہر امراضِ چشم اور ماہر امراضِ قلب شامل کیے جانے کی ہدایت دی گئی۔
فیصلے میں ڈاکٹر فیصل سلطان اور عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل سے منسلک رکھنے کی اجازت دی گئی۔ عدالت نے اہل خانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات اور بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر گفتگو کی سہولت دینے کا بھی حکم دیا۔
سپریم کورٹ نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک عمران خان کی صحت یا طبی رپورٹس سے متعلق معلومات اہل خانہ، سیاسی رہنما یا وکلا میڈیا اور عوام کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔ عدالت نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کے احاطے میں عوامی اجتماع پر بھی پابندی عائد کی اور واضح کیا کہ حکم کی خلاف ورزی یا سہولیات کے غلط استعمال کی صورت میں فراہم کردہ سہولیات واپس لی جاسکتی ہیں۔

Leave a reply