ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق امریکا کو دوٹوک پیغام

ایران نے آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کا فیصلہ خطے کی موجودہ صورتحال اور امریکی اقدامات سے جڑا ہوا ہے۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ ڈال کر اضافی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق واشنگٹن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایران اب دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے کے طریقے قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی عہدیدار نے امریکا سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر فوری اور مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وعدوں اور اقدامات کے درمیان فرق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کو حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کا فوری اور آسان حل تلاش کرنے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا یہ سخت مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔








