قومی اسمبلی میں بڑی قانون سازی، چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات میں غیرمعمولی اضافہ

0
0
قومی اسمبلی میں بڑی قانون سازی، چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات میں غیرمعمولی اضافہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے عہدے اور اختیارات سے متعلق ’ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026‘ میں ترمیمی بل سمیت ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010‘ میں ترمیم کا بل کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے دونوں بل ایوان میں پیش کیے، جبکہ اپوزیشن نے مجوزہ قانون سازی پر اعتراض کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
بل کی منظوری کے دوران بتایا گیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ سی ڈی ایف کو مسلح افواج کی کمانڈ، کنٹرول اور تنظیم سے متعلق وسیع اختیارات دینے کی بھی تجویز قانون کا حصہ ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز قومی سلامتی اور مسلح افواج سے متعلق معاملات پر وزیراعظم کو مشاورت فراہم کر سکیں گے۔ انہیں فوجی امور میں ضروری اقدامات، قواعد و ضوابط مرتب کرنے اور ہدایات و احکامات جاری کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
قانون میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی منظوری سے چیف آف ڈیفنس فورسز کو اضافی اختیارات تفویض کیے جاسکیں گے، جبکہ بعض اختیارات وہ براہِ راست استعمال کرسکیں گے۔ اختیارات کے استعمال سے متعلق حکومتی منظوری کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا۔
بل کے مطابق ’پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026‘ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، جبکہ قانون کے نفاذ سے قبل جاری کیے گئے احکامات، ہدایات اور اعلانات کو بھی برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی نے اسی اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترامیم کا بل بھی منظور کیا۔ وفاقی کابینہ اس سے قبل دونوں قانون سازیوں کے مسودوں کی منظوری دے چکی تھی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور متعلقہ انتظامی امور کو قانونی شکل دینا ہے۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد دونوں بل اب سینیٹ میں پیش کیے جائیں گے، جہاں انہیں قانون بننے کے لیے مزید پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

Leave a reply