ایورگرینڈ کے بانی کو عمر قید، چین میں بڑے پراپرٹی اسکینڈل پر اہم فیصلہ

0
10
ایورگرینڈ کے بانی کو عمر قید، چین میں بڑے پراپرٹی اسکینڈل پر اہم فیصلہ

چین کی معروف پراپرٹی کمپنی ایورگرینڈ کے بانی ہوئی کایان کو مالی جرائم کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت نے ان کی ذاتی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا، جبکہ کمپنی اور اس کی ایک بڑی ذیلی کمپنی پر اربوں یوآن کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

67 سالہ ہوئی کایان کبھی ایشیا کے امیر ترین کاروباری شخص سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے 1996 میں ایورگرینڈ قائم کی، جس نے قرضوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے ذریعے چین کے پراپرٹی سیکٹر میں تیزی سے توسیع کی اور ملک کی بڑی ڈویلپر کمپنیوں میں شامل ہوگئی۔

2017 میں فوربز کے مطابق ہوئی کایان کی دولت تقریباً 45 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ تاہم، بھاری قرضوں، پراپرٹی مارکیٹ میں مندی اور مالی مشکلات نے بعد میں کمپنی کو شدید بحران سے دوچار کردیا۔

عدالت نے ہوئی کایان کو فنڈز کے غلط استعمال، فراڈ کے ذریعے رقم جمع کرنے، غیر قانونی قرضوں اور سیکیورٹیز سے متعلق دھوکا دہی سمیت متعدد جرائم میں مجرم قرار دیا۔ وہ رواں سال اپریل میں ان الزامات کا اعتراف بھی کرچکے تھے۔

ایورگرینڈ پر تقریباً 8.82 ارب یوآن جبکہ اس کی ذیلی کمپنی ہینگڈا ریئل اسٹیٹ پر 7 ارب یوآن جرمانہ عائد کیا گیا۔ کمپنی سے وابستہ دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو بھی کئی سال تک قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائی گئیں۔

چینی حکام نے ہوئی کایان کو 2023 میں کمپنی کے ڈیفالٹ کے بعد حراست میں لیا تھا۔ اس کے بعد وہ طویل عرصے تک منظرعام سے دور رہے۔

متاثرہ خریداروں کا اصل مسئلہ

عدالتی کارروائی کے باوجود ایورگرینڈ کے بحران سے متاثرہ گھر خریداروں، سرمایہ کاروں اور قرض خواہوں کے لیے سب سے بڑا سوال اب بھی رقم کی واپسی ہے۔

کمپنی کو 2024 میں ہانگ کانگ کی عدالت نے لیکویڈیشن کے عمل میں ڈال دیا تھا۔ اس کے اثاثے فروخت کرکے قرض خواہوں کو ادائیگی کی کوشش جاری ہے، لیکن دستیاب اثاثوں اور قرضوں کے درمیان بہت بڑا فرق موجود ہے۔

لیکویڈیٹرز بیرون ملک موجود اثاثوں اور سابق انتظامیہ کو دی جانے والی رقوم سے بھی ممکنہ وصولی کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہوئی کایان کا معاملہ چین کی پراپرٹی مارکیٹ کے عروج اور بحران کی نمایاں مثال بن چکا ہے۔ یہ کیس اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ قرض پر مبنی کاروباری توسیع کا بحران صرف کمپنی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عام خریداروں، سرمایہ کاروں، بینکوں اور پوری معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔

Leave a reply