ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی جانب انگلینڈ کی اہم پیش رفت

0
15
ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی جانب انگلینڈ کی اہم پیش رفت

انگلینڈ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عالمی ہدف کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور جدید علاج کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد کا علاج کیا جاچکا ہے، جبکہ معلوم مریضوں میں سے تقریباً 80 فیصد کو علاج فراہم کرنے کا ہدف بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی ایک وائرس ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ دور میں دستیاب اینٹی وائرل ادویات کے ذریعے زیادہ تر مریض چند ہفتوں کے علاج سے صحت یاب ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بیماری پر قابو پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ بہت سے متاثرہ افراد میں ابتدا میں کوئی نمایاں علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے انگلینڈ میں اسپتالوں، جنرل پریکٹسز اور گھر بیٹھے ٹیسٹنگ سمیت مختلف ذرائع سے ایسے افراد کی تلاش کی جارہی ہے جو وائرس کا شکار ہونے کے باوجود تشخیص سے محروم ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں انگلینڈ میں تقریباً 50 ہزار بالغ افراد ہیپاٹائٹس سی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ ان میں سے تقریباً 85 فیصد کی تشخیص ہوچکی تھی، جبکہ حکام کا ہدف تشخیص کی شرح کو 90 فیصد تک پہنچانا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ انگلینڈ میں بیماری سے ہونے والی اموات میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں کمی آئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مکمل خاتمے کے لیے غیر تشخیص شدہ مریضوں تک پہنچنا اور انہیں فوری علاج فراہم کرنا ضروری ہے۔

ہیپاٹائٹس سی بنیادی طور پر متاثرہ خون کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جبکہ جدید خون کی اسکریننگ نے انتقالِ خون کے ذریعے انفیکشن کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کردیا ہے۔

انگلینڈ کی پیش رفت کو صحت عامہ کے شعبے میں ایک اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق مقررہ اہداف کے حصول کے لیے ٹیسٹنگ، تشخیص اور علاج کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنا ہوگا۔

Leave a reply